Gas Leakage Web ad 1

لاہور ہائیکورٹ کی آئی جی پنجاب کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ترمیم کی ہدایت

0

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ سزا یافتہ اور مقدمات سے بری ہونے والے افراد کے لیے الگ الگ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ فارمیٹس ہونے چاہئیں تاکہ کسی بے گناہ شخص کے ریکارڈ پر مجرمانہ داغ نہ لگے۔

Gas Leakage Web ad 2

جسٹس عبہر گل خان نے مبشر کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی، جس میں عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب پولیس اور ڈی آئی جی آئی ٹی منصور الحق سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

وینزویلا میں تباہ کن زلزلہ، ارجنٹینا کے فٹبالر لوکاس تریخو کی بیوی اور بچے ہلاک

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے سے بری ہونے کے باوجود درخواست گزار کا نام پولیس کے کریمنل ریکارڈ سے نہیں نکالا گیا، حالانکہ عدالت پہلے ہی ریکارڈ درست کرنے کے احکامات جاری کر چکی تھی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی آئی جی منصور الحق اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے موجودہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ افراد اور مقدمات سے بری یا غیر سزا یافتہ افراد کے لیے الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹس ہونے چاہئیں تاکہ کسی شخص کو بری ہونے کے باوجود مجرم ظاہر نہ کیا جائے۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کا نظام مکمل طور پر آٹومیٹڈ ہے۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کے لیے الگ پروفارما تیار کر کے صوبے بھر کے ڈی پی اوز کو بھجوایا جائے اور عدالتی احکامات کے مطابق ریکارڈ فوری طور پر درست کیا جائے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹس میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.