سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں کارروائیاں کرتے ہوئے جماعت الاحرار اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
133 مرتبہ کورین گلوکار کے گھر کی گھنٹی بجانے والی خاتون مداح کو عدالت نے کیا سزا سنائی؟
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 25 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر بھی تباہ کر دیے گئے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق حالیہ آپریشن خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا جواب ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سے لے کر خیبر اور بلوچستان تک دہشت گردی کے واقعات کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب باجوڑ میں بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر ایک آپریشن کے دوران کالعدم جماعت الاحرار کا اہم کمانڈر خان فروش عرف زبل اپنے چار ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
حکام کے مطابق مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔