پشاور ہائی کورٹ میں لارجر بنچ کے کریمینل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان نے کی۔ سماعت کے دوران چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ لارجر بنچ کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا، اور جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آتی جبکہ عدالت نے پراسیکیوشن کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی تھی۔
چین کی پھر ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ چار کروڑ عوام کا ہے، صوبہ جل رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، جنوبی اضلاع دہشت گردی کی وجہ سے شدید متاثر ہیں، ڈی آئی خان، کرک اور ٹانک میں صورتحال ایسی ہے کہ وہاں جانا بھی مشکل ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی ڈی آئی خان جانا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہیں جا سکے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صوبے کے بڑے افسران کو صورتحال کا ادراک ہونا چاہیے، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران پسماندہ اضلاع میں نہیں جاتے جبکہ ایک خاتون جج وہاں ڈیوٹی انجام دے سکتی ہے تو دیگر افسران کیوں نہیں جاتے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ شرم کی بات ہے کہ صوبے سے ڈی این اے سیمپلز لاہور بھیجے جاتے ہیں، ایک ڈی این اے ٹیسٹ پر تقریباً 11 لاکھ روپے خرچ آتا ہے جبکہ صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے کوئی لیبارٹری موجود نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، اگر کوئی افسر اپنے فرائض انجام نہیں دے رہا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے عدالت سے کہا کہ انہیں دو سے تین ہفتے کا وقت دیا جائے، وہ خود اس معاملے کو دیکھیں گے اور رپورٹ عدالت کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔
اس پر چیف جسٹس نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ جو افسران کام نہیں کرتے انہیں فارغ کیا جائے اور جو اہل ہیں انہیں تعینات کیا جائے، اگر سیاسی مداخلت ہو رہی ہے تو عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔