اسلام آباد کے مطابق ایف سکس اسلام آباد سے ایک نوجوان کو اس کے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا، جس کے بعد اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا، اور اس کی لاش صوابی سے ملی۔ وفاقی دارالحکومت میں قتل کی سنگین وارداتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقتول فرخ افضال، جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، کو نامعلوم افراد نے ایف سکس میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا اور خیبر پختونخوا لے جا کر انتہائی تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو صبح گھر سے بلایا گیا اور پھر زبردستی گن پوائنٹ پر نامعلوم افراد نے اغوا کر کے لے گئے اور چند گھنٹوں بعد بیٹے کی لاش ملی۔ باخبر ذرائع کے مطابق فرخ افضال کو پہلے تشدد کیا گیا اور پھر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
پی ایس ایل 11 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
اس واقعے کے بعد جب آئی جی اسلام آباد مقتول کے گھر پہنچے تو وہاں ورثاء کے درمیان شدید غم اور غصہ پایا گیا۔ وہاں موجود رہائشیوں نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ یہ وفاقی دارالحکومت کا حال ہے کہ سرِ عام ایک نوجوان کو اسلام آباد سے اٹھایا گیا اور بعد میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقتول کے ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ ابھی تک ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق قتل کی واردات میں ملوث افراد کا تعلق صوابی سے بتایا جا رہا ہے۔ مقتول کے قتل کی وجہ رشتے کا تنازع بتایا جا رہا ہے اور قاتلوں میں سے ایک شخص کا تعلق ڈی ایس پی خیبرپختونخوا کے بیٹے کے طور پر بتایا جا رہا ہے۔ یہ یاد رہے کہ پولیس اور پولیس کے انٹیلیجنس ادارے اس پر تحقیق کر رہے ہیں۔
کسی بھی جرائم پیشہ افراد کا خیبر پختونخوا سے اسلحہ لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونا اور ایک شہری کو اغوا کر کے بےدردی سے قتل کر دینا اسلام آباد پولیس کی سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سے پہلے بھی وفاقی دارالحکومت میں قتل، چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں اور شہری پولیس کی اس ناقص حکمت عملی اور کارکردگی پر عملی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ آئے روز وفاقی دارالحکومت میں قتل کی سنگین وارداتیں رونما ہو رہی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی کیمرے ہونے کے باوجود شہریوں کو سرِ عام گھر سے اٹھا کر قتل کیا جا رہا ہے اور انہیں کوئی تحفظ میسر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی واضح حکمت عملی سامنے ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے پولیس کی ناقص حکمت عملی اور وفاقی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی قتل کی سنگین وارداتوں پر شہرِ اقتدار کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ محسن نقوی اس واقعے کو بنیاد بنا کر نوٹس لیں اور ایک مضبوط کمانڈ تعینات کی جائے۔ وفاقی دارالحکومت میں جب تک انتظامیہ غیر قانونی اسلحہ کی نمائش کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن نہیں کرے گی، اس وقت تک قتل کی سنگین وارداتیں اور جرائم رونما ہوتے رہیں گے۔ اسلام آباد میں بسنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر وفاق کی سیکیورٹی کو مضبوط کیا جائے اور شہریوں کے مال و جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے