اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈ کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے اور اس سے متعلق قانون میں پارلیمانی منظوری کے مطابق ترمیم کی جائے، جس کے لیے 6 سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
2025 میں پاکستان میں 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، انسانی حقوق پر سالانہ رپورٹ جاری
ان شرائط کے مطابق خودمختار ویلتھ فنڈ کو کسی بھی صورت میں قرض لینے یا ادھار حاصل کرنے، ضمانت دینے یا رہن فراہم کرنے، سرکاری یا نجی اداروں کو قرض فراہم کرنے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں حصہ لینے، کسی بھی قسم کے مالیاتی اثاثے یا آلات حاصل کرنے یا مرکزی بینک اور دیگر سرکاری اداروں سے مالی معاونت لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی طرح فنڈ کو مالیاتی اثاثے حاصل کرنے اور مالیاتی اداروں یا سرکاری ملکیتی اداروں سے کسی بھی نوعیت کی سرمایہ کاری یا معاونت حاصل کرنے سے روکنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ ان مجوزہ ترامیم کو 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔
حکومت نے سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق قوانین میں 6 ترامیم پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دی ہیں تاکہ انہیں اسٹیٹ آپریٹڈ انٹرپرائزز ایکٹ کی شقوں کے مطابق مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔