ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابل میں پاکستان کے ناظم الامور کو افغان وزارت خارجہ کی جانب سے طلب کیا گیا۔
اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرنے کا اقدام دراصل افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو حاصل افغان سہولت کاری سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی دو کوششیں ناکام بناتے ہوئے 13 خوارج کو بھی ہلاک کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ کنڑ سمیت کسی بھی علاقے میں تعلیمی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور اس حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے الزامات خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی سے مراد روایتی جنگ بندی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کے حملوں، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہوں یا دہشت گرد گروہوں کی جانب سے، کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔