نئے فیصلے کے تحت ڈومیسائل فیس 200 روپے سے بڑھا کر 550 روپے مقرر کر دی گئی ہے، جس میں 200 روپے بنیادی فیس، 300 روپے ای-افیڈیویٹ اور 50 روپے سروس چارج شامل ہیں۔ حکومتی پالیسی کے مطابق 500 روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے جبکہ 50 روپے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو سروس چارج کی مد میں دیے جائیں گے۔
بجٹ تیاریاں شروع: تجارت کے عالمی فروغ کیلئے ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ
حکومت نے ڈومیسائل کے حصول کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت شہری اب آن لائن درخواست دے سکیں گے، فیس e-Pay Punjab کے ذریعے ادا کی جا سکے گی اور تیار شدہ ڈومیسائل کورئیر کے ذریعے گھر پر وصول کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک خودکار ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے مطابق موبائل ایپ کے ذریعے بھی ڈومیسائل کے لیے درخواست اور فیس کی ادائیگی ممکن ہوگی، جبکہ نادرا طرز کا ڈیجیٹل ویریفکیشن اور ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے ڈومیسائل کے اجرا کا دورانیہ کم ہو کر 2 سے 3 دن رہ جائے گا۔
کورئیر سروس کے لیے 60 روپے، سکیورٹی پیپر کے لیے 40 روپے جبکہ ڈیٹا ہوسٹنگ، ایس ایم ایس اور سسٹم مینٹیننس کے لیے 50 روپے شامل کیے گئے ہیں۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے مطابق فی درخواست اوسط لاگت 27.55 روپے بنتی ہے، جبکہ اس نظام کو چلانے کے لیے سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ خزانہ پنجاب نے فیس میں 150 روپے اضافے پر عوامی برداشت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے مکمل بریک اپ طلب کر لیا ہے۔ مختلف دستاویزات میں فیس اسٹرکچر سے متعلق تضادات، ای-افیڈیویٹ اور اسٹیمپ پیپر فیس میں فرق، اور کورئیر و سکیورٹی چارجز کی پالیسی پر ابہام کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آن لائن سہولت کے نام پر شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا ہے اور موجودہ مہنگائی کے دور میں ایک بنیادی سرٹیفکیٹ کا حصول بھی مہنگا ہو گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ نظام شفافیت، تیز رفتار سروس اور بہتر ڈیٹا مینجمنٹ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔