ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل، آٹوموبائل اور کیمیکلز سمیت مختلف شعبوں کے لیے مخصوص 76 ایچ ایس کوڈز پر لاگو نان ٹیرف بیریئرز ختم کرنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو باضابطہ یقین دہانی کرا دی ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق تمام نان ٹیرف بیریئرز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، جبکہ موجودہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر میں شامل مجموعی طور پر 2662 غیر ٹیرف رکاوٹوں کو جون 2026 تک ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ باقی ماندہ رکاوٹوں کو ختم یا آسان بنانے کا عمل نومبر 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لیے ڈیوٹیز میں کمی کی غرض سے نیشنل ٹیرف پالیسی کو فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گا۔ حکومت پہلے ہی رواں مالی سال سے تجارتی ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو دی گئی تحریری یقین دہانی میں واضح کیا ہے کہ ڈیوٹیز میں کمی کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔ نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت نئے اقدامات آئندہ وفاقی بجٹ میں شامل کیے جائیں گے جن کا مقصد درآمدی ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کے ذریعے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی کے دوسرے مرحلے میں ڈیوٹیز میں مزید کمی کو مالی سال 2027 کے فنانس ایکٹ کے ذریعے قانونی شکل دی جائے گی۔ اس سے اوسط ٹیرف میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدات کی لاگت میں کمی اور ملکی صنعت کی عالمی مسابقت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے برآمدات میں اضافہ اور مارکیٹ کو زیادہ کھلا اور شفاف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اگر اس پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو سرمایہ کاری میں اضافہ اور صنعتی ترقی کی رفتار میں بہتری آ سکتی ہے۔ حکام کے مطابق این ٹی پی 30-2025 کے تحت اقدامات عالمی تجارتی رجحانات سے ہم آہنگ ہیں اور ان کا مقصد پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں ٹیرف میں مسلسل کمی سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، تاہم مقامی صنعتوں کو مسابقت کے قابل بنانے کے لیے معاون اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔ حکومت نے غیر ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق موجودہ ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے 2662 غیر ٹیرف رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مرحلہ وار ختم یا آسان بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 76 ایچ ایس کوڈز سے متعلق پابندیوں کو جون 2026 تک ختم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانا اور کاروباری لاگت میں کمی لانا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ باقی رکاوٹوں کا مرحلہ وار جائزہ لیا جائے گا اور زیادہ منفی اثرات رکھنے والی رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر ختم کیا جائے گا۔ ان سفارشات کو کابینہ کی کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس پورے عمل کو نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہوئیں تو تجارتی نظام میں شفافیت بڑھے گی اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت بہتر ہو گی، جبکہ کاروباری برادری نے بھی اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ پالیسی کے تسلسل اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس کے دیرپا نتائج حاصل ہو سکیں۔