اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
سکردو میں وزیرِ اعظم کی فری سولر پینل سکیم کے تحت ڈیجیٹل قرعہ اندازی، 2,677 درخواست دہندگان کامیاب
نیب کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کے خلاف انکوائری ختم کرنے کے چیئرمین نیب کے قانونی اختیارات میں مداخلت کی ہے۔ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری شوگر ملز کیس نجی نوعیت کا ہے، جس میں سرکاری خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تفتیش میں مریم نواز کے خلاف کرپشن یا کرپٹ پریکٹس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
نیب نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ نے نیب ترامیم کے سیکشن 31 بی (1) کی غلط تشریح کی۔ چیئرمین نیب کے پاس ریفرنس دائر کرنے سے قبل کسی بھی کارروائی کو ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار ہے، جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے انکوائری ختم کرنے کو احتساب عدالت کی منظوری سے مشروط کرکے قانون کی خلاف ورزی کی۔
نیب نے وفاقی آئینی عدالت سے لاہور ہائیکورٹ کے 4 فروری 2026 کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔