امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے عالمی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی حکومتی اور عسکری سطح پر کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھرپور سراہا گیا ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے، جس سے اس کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی سیاست میں نئی راہیں کھولی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی سفارتکاری نے خطے میں نئی جہتیں متعارف کراتے ہوئے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔
موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے، فواد چوہدری
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا، ترکی، ملائیشیا اور چین کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے نے خطے میں نئی سفارتی فضا پیدا کی ہے۔ فارن پالیسی نے لکھا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کا نیا باب غیر متوقع طور پر اس وقت کھلا جب پاکستان نے کابل ایئرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا، جس پر امریکی سینٹ کام کے سربراہ نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی تعاون کو غیر معمولی قرار دیا۔
جریدے کے مطابق امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی سے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات اس کی سفارتی پوزیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان ایک تلخ فون کال کے بعد تعلقات مزید کشیدہ ہوئے، جس کے بعد ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کے لیے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی۔
فارن پالیسی کے مطابق جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کے درمیان دو گھنٹے طویل ملاقات نے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر سفارتکاری کے باعث پاکستان نے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود امریکا، چین اور سعودی عرب کے ساتھ متوازن اور مضبوط تعلقات قائم کیے ہیں، جو اس کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دی گئی ہے۔