دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کے 75 برس مکمل ہونے پر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے گزشتہ 75 سال کے دوران ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور تجارت، صنعت، تعلیم سمیت عوامی روابط کے شعبوں میں مضبوط شراکت داری قائم ہے۔
پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری سکہ جاری
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مستحکم بنانے اور تجدید کا سبب بنے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے جبکہ بیجنگ میں ایک استقبالیہ تقریب میں شرکت بھی ان کے شیڈول کا حصہ ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی اور تبدیلی ترقی پذیر ممالک کے لیے باعثِ تحریک اور قابل تقلید مثال ہے۔
امریکا اور ایران مذاکرات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو دورے کیے جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 17 مئی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے ان ڈرون حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی اور امید ظاہر کی کہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بربریت پر عالمی برادری گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مظالم قابل مذمت ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق کلبھوشن یادیو کیس بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے جبکہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی قرار نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا جبکہ بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنا کسی قانونی اور سیاسی حیثیت کا حامل نہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان امن کوششوں کے حوالے سے مکمل طور پر متحد اور ایک پیج پر ہے اور اس معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے لیے کی جانے والی کوششیں قومی سطح کی مشترکہ کاوش ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی لازوال قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے موضوعات پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ دونوں ممالک نے عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ اگلا اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔