Gas Leakage Web ad 1

کتابوں میں مور کا پنکھ اور آج کے بچوں کی جدوجہد

تحریر: آصف اقبال

0

ہمارا بھی ایک زمانہ تھا وہ وقت جب اسکول اور تعلیم بوجھ نہیں بلکہ معصومیت اور سادگی کی علامت ہوا کرتے تھے۔ پانچویں جماعت تک سلیٹ پر لکھنا اور اسے اپنے اپنے طریقے سے صاف کرنا ہماری روزمرہ کی عادت تھی۔ نہ کیلشیم کی کمی کا کوئی خوف تھا نہ جراثیم کا اندیشہ۔ سب کچھ قدرتی لگتا تھا اور زندگی اپنے سادہ رنگوں میں خوشنما نظر آتی تھی۔
اسکولوں میں پاس یا فیل کا سادہ سا تصور ہوتا تھا فیصد اور گریڈز کا رواج نہ تھا۔ ٹیوشن لینا کسی حد تک شرمناک بات سمجھی جاتی تھی۔ اگر کوئی بچہ پیچھے رہ جاتا تو یہ استاد کی قابلیت پر سوالیہ نشان ہوتا۔ کامیابی کے معیار فطری اور بے تکلف تھے۔
ہماری عقیدتیں بھی دل کو بہلانے والی تھیں۔ کتابوں میں مور کا پنکھ رکھنا ذہانت بڑھانے کی علامت سمجھا جاتا۔ کتابوں کو ترتیب سے رکھنے کو سگھڑ پن مانا جاتا۔ نئی جماعت میں داخلے کے بعد کتابوں پر کور چڑھانا کسی تہوار سے کم نہ ہوتا۔
والدین تعلیم کے معاملے میں زیادہ فکرمند نہ تھے۔ اسکول جانا ایک معمول تھا، امتحان دینا فریضہ اور کامیاب ہونا ایک قدرتی عمل۔ وہ ہمارے اسکول آنے جانے پر کڑی نظر رکھنے کے بجائے اعتماد پر یقین رکھتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم ذہانت کے ساتھ قناعت کو بھی اپنا ساتھی سمجھتے تھے۔
اسکول میں مار کھانا یا مرغا بننا معمول کی بات تھی۔ مگر اس سے نہ رشتے خراب ہوتے، نہ انا مجروح ہوتی۔ چند لمحوں بعد سب کچھ بھلا کر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے لگتے۔ شکایت اور انا کے جھگڑے کا کوئی وجود نہ تھا۔
ہم نے کبھی والدین سے زبانی محبت کا اظہار نہ کیا، نہ انہوں نے ہمیں کہا۔ کیونکہ اس وقت محبت لفظوں میں نہیں بلکہ اعمال میں جیتی جاتی تھی۔ رشتے اصولوں یا دکھاوے پر نہیں بلکہ خلوص اور سچائی پر استوار تھے۔
آج جب ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی قسمت پر راضی تھے۔ وہ زمانہ قناعت، سکون اور خوش بختی کی علامت تھا، جس کا آج کی زندگی سے کوئی موازنہ نہیں۔
آج کا دور اور نئی نسل کی جدوجہد
اب اگر حال پر نگاہ ڈالیں تو منظر بالکل بدل چکا ہے۔ تعلیم ایک صنعت میں ڈھل گئی ہے اور بچوں پر دباؤ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ پاس یا فیل کا سادہ تصور ختم ہو کر فیصد، گریڈز اور جی پی اے کی دوڑ نے بچوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ قابلیت اور ہنر کے بجائے نمبروں کی دوڑ سب کچھ بن گئی ہے۔
ٹیوشن اور اکیڈمیاں اب شوق نہیں بلکہ مجبوری ہیں۔ والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ اسکول فیس، کتابوں اور دیگر اخراجات نے والدین کی کمر توڑ دی ہے۔
رشتے بھی بدل گئے ہیں۔ والدین دن رات محنت تو کرتے ہیں لیکن وقت کی کمی نے بچوں کے ساتھ خلوص اور قربت کا وہ ماحول چھین لیا ہے جو کبھی ہماری پہچان تھا۔ محبت اب زیادہ تر لفظوں اور تصویروں تک محدود رہ گئی ہے۔ احساس اور عمل پیچھے رہ گئے ہیں۔
جہاں ہمارا زمانہ قناعت اور سکون کی مثال تھا، آج کا دور دوڑ، مقابلے اور تشویش کی علامت ہے۔ ہم کم چیزوں میں خوش تھے، مگر آج کی نسل سب کچھ پا کر بھی مطمئن نہیں۔
یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق لیں اور اپنی نئی نسل کو وہی سادگی، خلوص اور قناعت لوٹانے کی کوشش کریں، جو ہمارے زمانے کی اصل پہچان تھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.