Gas Leakage Web ad 1

پاکستان کی نیشنل بلائنڈ بیس بال ٹیم کا عالمی ورلڈ کپ میں شاندار مظاہرہ

0

پاکستان کی نیشنل بلائنڈ بیس بال ٹیم نے 2024 میں انگلینڈ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تیسری پوزیشن حاصل کی اور کانسی کا تمغہ جیتا۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان سمیت دنیا کی آٹھ بہترین ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں امریکہ، برطانیہ، کیوبا، ہنگری، اٹلی، ہالینڈ اور چائنا شامل تھیں۔

Gas Leakage Web ad 2

پاکستان نے گروپ اسٹیج میں مضبوط ٹیموں کو شکست دی، جن میں امریکہ کو 8-3 برطانیہ کو 3-0 اور ہنگری کو 7-0 سے ہرایا۔پاکستان اپنے پول میں پہلے نمبر پر رہا سیمی فائنل میں پاکستان کا مقابلہ دفائی چیمپئن اٹلی سے ہوا، جو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ٹائی بریک پر پہنچا۔ ٹائی بریک کے بعد اٹلی نے صرف دو پوائنٹ کے فرق سے پاکستان کو شکست دی، لیکن اس کے باوجود پاکستانی ٹیم نے دنیا کی بہترین ٹیموں میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔
۔تیسری پوزیشن کے میچ میں
بھی پاکستان نے برطانیہ کو 6-0 سے ہرا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اور بلائنڈ بیس بال عالمی کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ۔
پاکستان کی اس کارکردگی نے ثابت کیا کہ بلائنڈ بیس بال میں پاکستان دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے، اور ان کی محنت اور لگن نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان جناب غلام سرور نے 2024 کے ورلڈ کپ بلائنڈ بیس بال میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے بہترین بیٹر کا اعزاز حاصل کیا۔ غلام سرور نے اپنی مہارت اور تجربے کا بھرپور استعمال کیا اور ٹورنامنٹ کے دوران ایک ہوم رن بھی بنایا۔ بلائنڈ بیس بال میں ہوم رن بنانا انتہائی مشکل اور تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، لیکن غلام سرور نے اپنی غیر معمولی کارکردگی سے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

ان کی اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کو فخر کا موقع دیا بلکہ انہیں عالمی سطح پر بھی ایک ممتاز مقام دلوایا۔ غلام سرور کی یہ شاندار بیٹنگ اور قیادت نے انہیں دنیا کے بہترین بلائنڈ بیس بال کھلاڑیوں میں سرِفہرست رکھا اور ان کی کارکردگی نے پاکستان کی بلائنڈ بیس بال ٹیم کو عالمی سطح پر مزید مضبوط اور مستند ثابت کیا۔ دیگر کھلاڑیوں میں چوھدری ظہیر, زاھد محمود, قدیر اصغر, امجد چوھدری, ارسلان صابر, شعیب نزیر, شاہزیب حیدر, شیراز چوہان اور غلام سرور شامل ھیں ان سب کھلاڑیوں نے اعلی کھیلتے ھوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔
پاکستانی ٹیم کے کوچ اور مینیجر جناب مخدوم امجد شاہ نے ھمارے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ھوئے بتایا کہ ھم نے یہ ٹیم محض چند دنوں کی بھاگ دوڑ میں فائنل کی جبکہ ھمیں بہت سے معاشی مسائل کا بھی سامنا رھا۔ پاکستان بیس بال فیڈریشن کے صدر جناب فخر شاہ صاحب اور ٹیم کے دیگر کوچز اور کھلاڑیوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ھوئے جو ذمہ رایاں سونپی الحمد للہ میں اس میں کامیاب رھا جبکہ ٹیم کے تمام ارکان نے بھر پور تعان کرتے ھوئے بہترین کھیل کا مظاھرہ کیا اور سیمی فائنل تک ناقابلِ تسخیر رھے ۔۔

یو کے بلائنڈ بیس بال ایسوسی ایشن (UK Blind Baseball Association) نے پاکستان بلائنڈ بیس بال نیشنل ٹیم کو نہ صرف ٹریننگ کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ ہر ممکن تعاون بھی کیا۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین جناب امجد خان اور ڈویلپمنٹ آفیسر جناب شیراز چوہان، جو کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں، نے پاکستان کی ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔
مینیجر مخدوم امجد شاہ,صدر پاکستان فیڈریشن فخر شاہ, ھیڈ کوچ سیف الرحمن, چیف آرگنازر شیراز چوہان اور کپتان غلام سرور نے موجودہ ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ھوئے اس امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ یہ ٹیم آئندہ ٹورنامنٹس میں اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائے گی اور ھم سونے کا میڈل جیت کر دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کریں گے ۔۔

امجد خان اور شیراز چوہان نے اپنی گفتگو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے لیے چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کی نیشنل ٹیم یا پاکستان بیس بال فیڈریشن کو کسی قسم کی مدد یا تعاون کی ضرورت ہوئی تو وہ ہمیشہ پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔ ان کی اس پیشکش اور تعاون نے پاکستان کی بلائنڈ بیس بال ٹیم کے لیے نہایت مفید مواقع فراہم کیے، جس سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری اور بین الاقوامی سطح پر ان کی کامیابیوں میں اضافہ ہوا۔

پاکستان بلائنڈ بیس بال نیشنل ٹیم کے ہیڈ کوچ جناب سیف الرحمان اور مینیجر مخدوم امجد شاہ نے ٹیم کی کامیابی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی انتھک محنت اور لگن کی بدولت پاکستان نے دنیا میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو ٹیم کی مشترکہ محنت اور عزم کا نتیجہ قرار دیا۔ جبکہ آرگنائزر شیراز چوہان کی انتھک محنت کی تعریف کی جس کی بدولت کامیابی ممکن ھوئی ۔۔

انہوں نے اپنے کوچنگ پینل کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا، جن میں اون اسلم، اسامہ بن امجد، رحیم لطیف شامل رھے۔ اسامہ بن امجد اور رحیم لطیف نے کیچر کوچنگ بہت عمدہ کی جبکہ اون اسلم نے بیس پر کھلاڑیوں کی اعلی رہنمائی کی اور بہت داد وصول کی انہوں نے کہا کہ ان تمام کوچز اور مینیجر نے کھلاڑیوں کے ساتھ دن رات محنت کی، جس کی بدولت آج پاکستان کی بلائنڈ بیس بال ٹیم دنیا کے تیسرے نمبر پر ہے۔ ھیڈ کوچ سیف الرحمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اور ان کی ٹیم مستقبل میں بھی اسی جذبے اور محنت سے کام کرتے رہیں گے تاکہ پاکستان کی بلائنڈ بیس بال ٹیم عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان کو بلائنڈ بیس بال فیڈریشن کی مکمل سپورٹ کرنی چاہیے تاکہ پاکستان میں بینائی سے محروم بچوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مالی اور انتظامی تعاون فراہم کرے تو نہ صرف ملک میں اس کھیل کی ترقی ہوگی بلکہ بینائی سے محروم بچوں کو ایک نیا پلیٹ فارم ملے گا، جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں گے۔

پاکستان بیس بال فیڈریشن کے صدر جناب فخر شاہ نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن اسے پروان چڑھانے کے لیے حکومتی سرپرستی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف بلائنڈ بیس بال کی ترقی ہوگی بلکہ کھیل کے ذریعے بینائی سے محروم افراد کے لیے بہتر مواقع اور حوصلہ افزائی بھی پیدا ہوگی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.