sui northern 1

باڈی اگر فِٹ ہو تو دماغ بھی ’جوان‘ رہتا ہے

باڈی اگر فِٹ ہو تو دماغ بھی ’جوان‘ رہتا ہے

0
Social Wallet protection 2

سائنس کے مطابق جسمانی فِٹنس اور دماغی تندرستی کے درمیان براہِ راست تعلق ہے، جسے Body–Brain Connection کہا جاتا ہے۔ جسمانی سرگرمی دل کو مضبوط کرتی ہے، جس سے دماغ تک زیادہ آکسیجن اور غذائی توانائی پہنچتی ہے، نتیجتاً یادداشت بہتر ہوتی ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی تھکن کم ہوتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت، شفاف ٹرائل پر وکلا کے تحفظات
خصوصی طور پر ورزش، جیسے تیز چہل قدمی، دوڑ یا سائیکلنگ، دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا کرتی ہے جو نئے نیورونز کی تخلیق کو فروغ دیتے ہیں، اس عمل کو neurogenesis کہتے ہیں۔ یہ دماغ کو ’’جوان‘‘ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

sui northern 2

ورزش کورٹیسول کو کم اور اینڈورفنز کو بڑھاتی ہے، جو خوشی اور سکون کا احساس دیتے ہیں، اس کے نتیجے میں تناؤ، ڈپریشن اور بے چینی کی کیفیت کم ہوتی ہے۔ فِٹ جسم اچھی نیند میں بھی مدد دیتا ہے، اور اچھی نیند دماغ کے لیے کمپیوٹر کی ڈیپ کلیننگ جیسی ہے، جس سے یادداشت، فیصلہ سازی اور سیکھنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔

طویل عرصے تک ورزش دماغی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے، اور روزانہ صرف 30 منٹ کی واک بھی دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ فِٹ جسم انسان کو بہتر محسوس کرواتا ہے، موڈ اور موٹیویشن بڑھاتا ہے اور دماغ کو زیادہ فعال رکھتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.