sui northern 1

تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، جسٹس حسن

تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، جسٹس حسن

0
Social Wallet protection 2

اسلام آباد:

sui northern 2

وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات کے کیس میں سخت ریمارکس دیے ہیں اور ریلوے کی زمین پر قبضے اور تجاوزات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ تجاوزات بن رہی تھیں اور قبضہ ہو رہا تھا، لیکن ریلوے خاموش بیٹھا رہا، زمین کی واپسی کے لیے کسی نے ریلوے کے ہاتھ نہیں باندھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے نے ملکیتی زمین کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے اور تجاوزات و قبضے کے ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
آئینی عدالتوں میں دائرہ اختیار کا مسئلہ درپیش رہتا، جسٹس کیانی
جسٹس حسن رضوی نے مزید کہا کہ ریلوے کی زمین قوم کی امانت ہے، قیام پاکستان کے وقت ٹرینوں اور پٹڑیوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن آج نصف رہ گئی ہے۔ ریلوے کے کلب اور اسپتال بھی ختم ہو گئے، اور زمین پر کچی آبادیاں، انڈسٹری اور گوٹھ بن گئے ہیں۔ انہوں نے وکیل ریلوے سے سوال کیا کہ اگر تمام زمین واپس مل جائے تو کیا منصوبہ ہے؟

وکیل ریلوے شاہ خاور نے بتایا کہ راولپنڈی میں ریلوے کی 1359 کنال زمین پنجاب حکومت نے کچی آبادی کو دے دی تھی، جس میں ریلوے اسٹیشن بھی شامل تھا، تاہم 1288 کنال زمین واپس ریلوے کے نام منتقل ہو چکی ہے اور پنجاب نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔

جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ ریلوے کے افسران ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے رہیں گے تو زمینوں پر قبضہ جاری رہے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ صوبائی حکومت نے وفاق کی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کر دی اور ریلوے تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایکشن کیوں نہیں لیتا۔

عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضے کی جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.