پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری مسلح افواج کی ہے اور یہ ضمانت کابل کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کو فٹ بال بنا کر کھیلتے ہیں، اس لیے ان سے مذاکرات کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خیبرپختونخواٰ حکومت اگر دہشت گردوں سے بات چیت کی بات کرتی ہے تو وہ قابلِ عمل نہیں، اس سے الجھن پھیلتی ہے۔
علیمہ خان کے 7ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہرانا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا بلکہ ہماری ان سے جھڑپیں اور مختلف دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں حکومت، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مشترکہ فیصلے کیے تھے۔ اگر فوج کے اندر کوئی عہدہ بنانا ہو تو یہ حکومت کا اختیار ہے، اور فوج سیاست سے دور رکھی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا کسی سے وہ معاہدہ نہیں ہے جس کے تحت ڈرون افغانستان جانے ہوں، امریکی ڈرونز پاکستان سے نہیں جاتے اور وزارتِ اطلاعات نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔ طالبان رجیم کی جانب سے ڈرونز کے حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کے بقول طالبان رجیم دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرتی ہے اور استنبول میں انہیں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی پر قابو پانا ان کی ذمہ داری ہے۔ جو عناصر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران بھاگ کر افغانستان چلے گئے، انہیں واپس کر دیا جائے تو ہم آئین اور قانون کے مطابق ان سے نمٹ لیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کی کاشت سے منافع کماتے ہیں اور اس کی پیداوار سے جنگی سربراہان، افغان طالبان اور دیگر گروہوں کو حصہ مل جاتا ہے، اسی رقم سے دہشت گردی، چرس اور اسمگلنگ کے نیٹ ورک چلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں آپریشن کرنے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں تقریباً 200 جوان اور افسر شہید ہوئے۔ چوکیوں اور رسد کے قافلوں پر حملے ہوتے ہیں۔ گورنر راج کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جو لوگ مساجد اور مدارس پر حملے کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
استنبول کانفرنس کے حوالے سے ان کا موقف یہ تھا کہ دہشت گردی، مداخلت اور افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اخلاقیات سکھانے کی ضرورت نہیں، ہم اپنی افواج اور عوام کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کا معاملہ ہے، فوج خود ایسا فیصلہ نہیں کرتی۔
سرحدی صورتحال پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل ہے اور ہر جگہ چوکی بنانا ممکن نہیں، البتہ افغان گارڈز بعض اوقات دہشت گردوں کو عبور کرانے کے لیے فائرنگ کرتے ہیں جس کا جواب دیا جاتا ہے۔ افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور یہ دہشت گردی کو پیدا کر کے پڑوسی ممالک میں پھیلا رہے ہیں۔ پہلگام واقعے کے شواہد بھارت سے مانگے گئے مگر موصول نہیں ہوئے۔
انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے میں کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا مسئلہ ہے۔ فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی اور اسے سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔ اگر کسی نے فوج کو گھسیٹنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف انہیں موقف اختیار کرنا پڑے گا۔ دوحہ معاہدے پر بھی عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی اور بھارت کے خلاف شدید ردعمل کی بات کی، ساتھ ہی کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 کے دوران ملک میں 62 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے جن میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیوں میں 1,667 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور دہشت گرد حملوں میں 206 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے جھڑپوں میں 206 افغان طالبان اور تقریباً 100 فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد ہلاک کیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ حرکت کی تو سخت جواب دیا جائے گا، اور بھارت کے حالیہ دعووں کو بھی تنقیدی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اداروں کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور سیاست دان ریاست بناتے ہیں۔