امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی کامیابیوں اور جائیدادوں کے باعث شہرت رکھتے ہیں، تمام تر کوششوں کے باوجود اب تک دنیا کے معتبر ترین اعزاز نوبیل امن انعام سے محروم ہیں۔ نوبیل امن انعام کا اعلان کل (جمعہ) اوسلو میں کیا جائے گا۔ 79 سالہ ٹرمپ اس انعام کے منتظر ہیں اور کئی ماہ سے شکایت کر رہے ہیں کہ عالمی امن کے لیے ان کی کوششوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز ایک بیان میں ٹرمپ نے اپنے امن مشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سات جنگیں ختم کی ہیں، آٹھویں کے خاتمے کے قریب ہیں، اور ان کے خیال میں روس کے مسئلے کا حل بھی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید نوبیل کمیٹی ان کو انعام نہ دینے کا کوئی بہانہ تلاش کر لے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ یہ انعام نہیں جیتتے تو یہ ان کے ملک کے لیے “بڑی توہین” ہوگی۔ ان کے اس بیان نے عالمی سفارت کاری پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اسرائیل کے ایک سابق اعلی مذاکرات کار نے بتایا کہ ممکنہ طور پر ٹرمپ کے دباؤ کے باعث حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں تیزی آئی تاکہ امن کا اعلان وقت پر کیا جا سکے اور ٹرمپ کو انعام کا اہل قرار دیا جا سکے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے سابق مذاکراتی یونٹ کے کمانڈر کرنل ڈورون حدار کے مطابق، سب کو اوسلو میں نوبیل کمیٹی کے اعلان کی ٹائم لائن کا اندازہ ہے، اسی لیے فریقین معاہدے تک جلد پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی اس خواہش کو دیکھتے ہوئے کئی عالمی رہنما بھی انہیں خوش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا نے انہیں باضابطہ طور پر نامزد کیا ہے، جبکہ تائیوان کے صدر نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ چین کو تائیوان پر فوجی کارروائی سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ یقیناً اس انعام کے مستحق ہوں گے۔
نوبیل انعام کی تاریخ سے واقف ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مہم اور لابنگ غیر معمولی اور روایت سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر انعام کے انتخاب کا عمل خفیہ اور پرسکون انداز میں کیا جاتا ہے، اور امیدوار شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر مہم چلاتے ہیں۔ اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر نینا گریگرنے کے مطابق، یہ طرزِ عمل بہت غیر روایتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال ٹرمپ کا نام ممکنہ فاتحین کی فہرست میں شامل نہیں، البتہ ان اداروں کے نام موجود ہیں جن سے ان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جیسے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ کی کوششیں ذاتی مفاد پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور ان کا رویہ نوبیل انعام کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔