امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس بیان پر ردعمل دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔
انگلینڈ کیخلاف آل راؤنڈکارکردگی، عرفات منہاس نے اہم اعزاز حاصل کرلیا
اینا کیلی سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایرانی حکومت کو ختم کرنے کے مبینہ منصوبوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔
اس پر انہوں نے کہا کہ جیسا کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں، ایران معاشی اور فوجی دونوں اعتبار سے انتہائی خراب حالت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ برقرار رہے گی، جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے ریکارڈ مقدار میں تیل کی ترسیل جاری رہے گی۔
اینا کیلی نے مزید کہا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ فوکس نیوز کے سروے میں ان کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سروے کے مطابق امریکی صدر کی مجموعی کارکردگی پر 64 فیصد امریکیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 36 فیصد افراد ان کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی دیے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق سروے میں 55 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کو مسترد کردیا۔



