واشنگٹن: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے معاہدے کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھاتے ہوئے جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔

امریکی نائب صدر نے خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں۔
ایران کیخلاف جنگ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا، رپورٹ
جے ڈی وینس کے مطابق صرف مستقبل میں جوہری سرگرمیوں میں کمی کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔ اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تو پھر اسے 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو اسے انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہیں کرنا چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے اب بھی تیار ہے، لیکن ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو یہ معلوم نہیں کہ تہران میں فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ امریکا ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران کے طاقت کے ڈھانچے میں ان دونوں کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ انہوں نے میدان جنگ کی صورتحال کے بارے میں فیلڈ کمانڈروں سے بات کی ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران وقتاً فوقتاً تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنا رہا ہے، تاہم ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی برآمدات روکنے میں بڑی حد تک ناکام رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہ صدارتی انتخاب لڑنے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔



