Gas Leakage Web ad 1

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کا انکشاف

0

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کا انکشاف

Gas Leakage Web ad 2

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مئی کے وسط میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران امریکی حکام کو شدید شبہات لاحق ہوگئے تھے کہ آیا ایرانی مذاکرات کار واقعی طاقتور ایرانی فورس پاسداران انقلاب کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر روایتی قدم اٹھاتے ہوئے براہِ راست ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق اس خفیہ بیک چینل رابطے کے لیے عراقی کردستان کے صدر نیچیروان بارزانی کا انتخاب کیا گیا، جو امریکی اور ایرانی دونوں حلقوں میں اعتماد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت اس سے قبل رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔ پس منظر کے طور پر بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ رہنماؤں کی شہادت شامل تھی۔

اس کے بعد 40 روزہ جنگ نے پاسداران انقلاب کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا۔ 8 اپریل کی جنگ بندی اور اسلام آباد میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کیے۔ مئی کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کو امید تھی کہ معاہدہ قریب ہے، تاہم ایران کی جانب سے 10 دن سے زائد تاخیر نے شکوک کو جنم دیا۔

امریکی حکام کو خدشہ ہوا کہ ایرانی مذاکرات کار، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے، اصل اختیار نہیں رکھتے اور پاسداران انقلاب ان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں 10 مئی کے قریب امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ نے نیچیروان بارزانی سے رابطہ کیا۔ یہ رابطہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری سے کیا گیا۔

گیبارڈ نے بارزانی سے درخواست کی کہ وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی تک رسائی میں مدد فراہم کریں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ آیا وہ ایرانی مذاکراتی پوزیشن کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ بارزانی، جو ایران میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور فارسی زبان پر عبور رکھتے ہیں، ایرانی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔
پنجاب میں پہلی بار پانچویں کلاس تک کتابوں کا نیا ایکٹیویٹی بیسڈ سسٹم تیار
بارزانی نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطہ کیا اور براہِ راست جنرل وحیدی سے بات کرنے پر زور دیا۔ 14 مئی کو اربیل میں بارزانی کے دفتر میں ایک ایرانی اہلکار خفیہ فون لے کر پہنچا، جس کے ذریعے محفوظ کال ممکن بنائی گئی۔ اس گفتگو میں جنرل وحیدی نے کہا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں۔

بعد ازاں بارزانی نے فوری طور پر تلسی گیبارڈ کو اس گفتگو سے آگاہ کیا، جنہوں نے وائٹ ہاؤس کو بریفنگ دی۔ اس پیش رفت کے بعد امریکا نے ایک نئی تجویز پیش کی، جس کے تحت اربیل میں خفیہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی گئی، تاہم ایرانی فریق نے سکیورٹی خدشات کے باعث اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کردستان میں سرگرم ہے اور ممکنہ طور پر انہیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جس کے باعث یہ ملاقات نہ ہوسکی۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ثالثین اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں، تاہم کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔

بعض علاقائی ذرائع کے مطابق پاکستانی ثالثی کی رپورٹس حقیقت سے زیادہ پرامید ہوسکتی ہیں، جس کا مقصد تعطل کو توڑنے کے لیے ماحول بنانا ہے۔ دوسری جانب نیچیروان بارزانی نے حالیہ دنوں میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کو پیغامات بھیجے ہیں اور مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

تاہم بریٹ میک گرک کے مطابق اصل مسئلہ ثالث نہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پالیسی ہے، جس میں فوری تبدیلی کا امکان کم ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.