انقرہ: ترک پارلیمنٹ نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو باضابطہ طور پر ختم کرنے اور اس کے جنگجوؤں کو محدود معافی دینے کا بل منظور کرلیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنازع ختم کرنے کے لیے ترک حکومت کی جانب سے یہ اس سلسلے کی پہلی قانون سازی ہے۔ ’’دہشتگردی سے پاک ترکیہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے بل پر 12 گھنٹے تک بحث ہوئی، جس کے بعد 468 ارکان نے بل کی حمایت جبکہ 88 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جب کہ 6 ارکان غیر حاضر رہے۔
قطر کی ایل این جی کھیپ ہرمز کی مشکل صورتحال کے بعد پاکستان پہنچ گئی
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس قانون سازی سے عشروں سے جاری تنازع ختم کرنے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
قانون کے تحت ہتھیار ڈالنے والے پی کے کے جنگجوؤں میں سے بعض کو عام زندگی گزارنے کے لیے محدود معافی دی جائے گی، تاہم قانون سازی کے دائرے میں پی کے کے کے زیر حراست بانی رہنما عبداللہ اوجلان کو شامل نہیں کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی کے کے نے اپنے 77 سالہ رہنما کی رہائی کو مرکزی مطالبہ بنایا ہوا ہے، جو 27 برس سے استنبول کے مضافاتی جزیرے میں قید تنہائی میں ہیں۔
18 ماہ قبل عبداللہ اوجلان نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور ترکیہ کی کرد اقلیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے جمہوری طریقے اختیار کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی قانون سازی سے پی کے کے سے وابستہ قیدیوں میں سے ایک تہائی یعنی ساڑھے 3 ہزار افراد کی رہائی کا امکان ہے۔