Gas Leakage Web ad 1

امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا 14 نکات پر مشتمل مسودہ منظرعام پر

0

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا مسودہ حاصل ہوا ہے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کو معاشی ریلیف اور جوہری پروگرام سے متعلق مجموعی طور پر 14 نکات شامل ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

سی این این کے مطابق یہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تاحال سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے اس کی کاپی فراہم کی۔ فرانس میں منعقدہ جی 7 اجلاس میں دستاویز کا جائزہ لینے والے ایک سفارتکار اور مذاکرات سے آگاہ دو دیگر سفارتی ذرائع نے بھی اس کے مندرجات کی تصدیق کی۔

’50 سالوں سے آپ کے سامنے ہوں‘، بشریٰ انصاری کا لپ فلر کا الزام لگانے والوں کو جواب

مسودے کے مطابق امریکا ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دے گا جبکہ ایران مستقبل کے جوہری مذاکرات میں طے شدہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی فنڈ تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ تاہم دستاویز میں اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح تفصیل شامل نہیں۔

امریکی عہدیدار کے مطابق یہی وہ متن ہے جس پر اتوار کے روز امریکی صدر Donald Trump، نائب صدر JD Vance اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے ڈیجیٹل دستخط کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کو متوقع ہیں، جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا۔

مسودے کے اہم نکات کے مطابق ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجودہ جنگ کے تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ کارروائی، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر بھی متفق ہوں گے۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے پر زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر مذاکرات مکمل کیے جائیں گے، تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔

دستاویز کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے خلاف بحری رکاوٹیں ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال کی جائے گی۔ حتمی معاہدے کے بعد امریکا اپنے فوجی دستے خطے کے بعض علاقوں سے واپس بلائے گا۔

ایران بھی خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گا، جبکہ بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے پر کام کیا جائے گا۔

مسودے کے تحت امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی بحالی اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت پر مشتمل جامع منصوبہ تشکیل دے گا، جس کا طریقہ کار حتمی معاہدے کے تحت طے کیا جائے گا۔

دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور امریکی یکطرفہ پابندیوں سمیت ایران پر عائد تمام پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا۔

ایران اپنی اس پوزیشن کا اعادہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا جبکہ افزودہ مواد اور دیگر جوہری معاملات کو حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔

حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی، ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ سطح برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی نہیں کرے گا۔

مسودے کے مطابق امریکا ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور متعلقہ خدمات، بشمول بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ، کے لیے خصوصی رعایتی اجازت نامے جاری کرے گا تاکہ پابندیوں کے مکمل خاتمے تک تجارتی سرگرمیاں بحال رہ سکیں۔

اسی طرح امریکا ایران کے منجمد فنڈز اور اثاثے بھی مرحلہ وار جاری کرے گا اور ان کے استعمال کے لیے ضروری اجازت نامے فراہم کرے گا۔

دستاویز میں حتمی معاہدے پر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کے لیے خصوصی نظام کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ آخر میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.