شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سلامتی کونسل سیکرٹریوں کے 21ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان سے جڑے دہشت گردی اور منشیات اسمگلنگ کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سرگئی شوئیگو نے دعویٰ کیا کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند گروہوں کے تقریباً 18 ہزار سے 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں، جو پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم کئی شدت پسند گروہ اب بھی طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔
معذور کوٹہ پر بھرتی نہ کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق شوئیگو نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال خطے کی سلامتی کے لیے نہایت اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داعش خراسان کے تقریباً 3 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور تنظیم نے 2025 کے دوران 12 بڑے دہشت گرد حملے کیے، جن میں 40 فوجی اہلکار اور 25 شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
روسی عہدیدار نے کہا کہ شام سے ایغور، تاجک اور ازبک جنگجوؤں کی افغانستان آمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول بعض عناصر ماضی میں حیات تحریر الشام سے وابستہ رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی سیکیورٹی ایجنسیاں افغانستان آنے والے شدت پسند عناصر کی نگرانی کر رہی ہیں، مگر اس کے باوجود کچھ اسلام پسند گروہ اب بھی طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔
سرگئی شوئیگو نے طالبان حکومت کے منشیات کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، تاہم مصنوعی منشیات خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران افغانستان کی سرحدوں پر 30 ٹن سے زائد مصنوعی منشیات پکڑی گئیں جبکہ شدید معاشی بحران کے باعث اب بھی تقریباً 40 لاکھ افراد منشیات سے متعلق فصلوں کی کاشت سے وابستہ ہیں۔
اجلاس کے دوران روسی عہدیدار نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روس، کیوبا، وینزویلا، عراق، ایران، شمالی کوریا، لیبیا اور افغانستان کے تقریباً 590 ارب ڈالر کے اثاثے مغربی ممالک میں منجمد کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد دنیا کے کئی ممالک مغربی ممالک میں اپنے قومی ذخائر محفوظ رکھنے کے حوالے سے دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔