Gas Leakage Web ad 1

امریکی ناکہ بندی برقرار: ایران نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی لگا دی

0

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام ایک بار پھر سخت فوجی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

ٹرانسپورٹ کا مستقبل

ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ترجمان نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں اور ناکہ بندی کے نام پر سمندری ڈاکہ زنی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدوں کے تحت محدود تعداد میں جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے اور اس سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا جہازوں کی آمدورفت کو مکمل آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا، اس وقت تک اس آبی گزرگاہ پر سخت نگرانی جاری رہے گی۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی ایک بیان میں موجودہ صورتحال پر ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کو اپنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور نیوی کی جانب سے اجازت حاصل ہوگی اور مطلوبہ فیس ادا کی گئی ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس صورتحال کو باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا، آبی راستے کی بحالی کی خبروں کے بعد حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن معاہدہ بہت قریب ہے اور ایران افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ تھا۔ تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا افزودہ یورینیم ذخیرہ کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔

اس سے قبل ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی جنگی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت درکار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے جو سب غلط تھے، اور ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سے نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی مذاکرات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا یا بند ہونا سوشل میڈیا پر طے نہیں ہوتا بلکہ اس کا فیصلہ عملی میدان میں کیا جاتا ہے، اور ایران کی مسلح افواج بخوبی جانتی ہیں کہ کسی بھی اقدام کا جواب کیسے دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جسے امریکا بحری ناکہ بندی قرار دیتا ہے، ایران اس کا مناسب جواب دے گا، کیونکہ بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایران ضروری اقدامات کرے گا۔

ایرانی وزارت دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا انحصار حملے نہ ہونے پر ہے اور اس اہم تجارتی راستے تک رسائی موجودہ جنگ بندی کی صورتحال سے مشروط ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف اسی صورت میں کھلی رہے گی جب جنگ بندی برقرار رہے گی، جبکہ فوجی جہازوں اور دشمن قوتوں سے وابستہ بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور اگر زمینی حالات، خصوصاً لبنان سے متعلق صورتحال میں تبدیلی آتی ہے تو اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.