بیشتر افراد رات کو سونے سے قبل لیٹنے سے پہلے پانی پینا پسند کرتے ہیں، لیکن کیا یہ عادت صحت پر اثرات مرتب کرتی ہے؟ اگر اثرات مرتب کرتی ہے تو یہ مثبت ہوتے ہیں یا منفی؟ اس کا جواب سادہ نہیں ہے بلکہ اس میں فوائد اور نقصانات دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی بیساکھی کے موقع پر ہندو اورسکھ برادری کو مبارکباد
پانی جسم کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور جسم و ذہن دونوں کے افعال کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی نہ پینے کی صورت میں ڈی ہائیڈریشن کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس میں بو، سر درد اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر رات کو سونے سے قبل مناسب مقدار میں پانی پیا جائے تو یہ نیند کے دوران جسم میں پانی کی مناسب سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کے دوران۔
نظامِ ہاضمہ کے حوالے سے بھی پانی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آرام اور نیند کے دوران جسم خوراک کو ہضم کرنے کا عمل جاری رکھتا ہے، جس کے لیے پانی ضروری ہوتا ہے۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے سے قبض اور ہاضمے کے مسائل کم ہو سکتے ہیں، جبکہ سونے سے قبل پانی پینے سے صبح کے وقت آنتوں کی کارکردگی بہتر ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھوک کے احساس کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے اور زیادہ کھانے سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔
نیند کے معیار کے حوالے سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینے سے جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے نیند بہتر ہو سکتی ہے۔ پانی جسم اور دماغ دونوں کے افعال کے لیے ضروری ہے اور اس کا اثر نیند پر بھی پڑتا ہے۔
سر درد کے حوالے سے بھی پانی کا کردار اہم ہے۔ دن بھر میں کم پانی پینے سے جسم میں ڈی ہائیڈریشن ہو سکتی ہے جس سے سر درد یا پٹھوں میں درد پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ سونے سے قبل مناسب مقدار میں پانی پینے سے ان علامات میں کمی آ سکتی ہے۔
دماغی صحت کے حوالے سے کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پانی کی مناسب مقدار ڈپریشن اور اینزائٹی کی علامات کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ ڈی ہائیڈریشن ان علامات کو بڑھا سکتی ہے اور بہتر نیند بھی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
تاہم سونے سے قبل پانی پینے کے کچھ منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر زیادہ مقدار میں پانی پیا جائے تو رات کے دوران بار بار ٹوائلٹ جانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند کا معیار کم ہو جاتا ہے اور نیند کا دورانیہ بھی متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ بار بار نیند ٹوٹنے سے بے خوابی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض افراد میں زیادہ پانی پینے سے سینے کی تیزابیت کی علامات بھی بڑھ سکتی ہیں، جبکہ مناسب مقدار میں پانی بعض صورتوں میں اس مسئلے میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے سے قبل پانی پینا فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے اور نقصان دہ بھی، اس کا انحصار مقدار اور فرد کی جسمانی حالت پر ہوتا ہے، اس لیے مناسب مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔