ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 270 ارب ڈالر کا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ بیان ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کی جانب سے جاری کیا گیا۔
روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے اثرات شامل ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سید پور ولیج کیس نے نیا موڑ لے لیا، فیصلہ اب 21 اپریل کو
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے ایک اہم معاملہ ہے، جسے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق ہرجانے کا مطالبہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی شرائط کا حصہ ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے انتونیو گوتریس کے نام ایک خط کے ذریعے خلیجی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں، سے بھی جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس کے مذاکراتی عمل پر بھی اثر انداز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔