تازہ ترین تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحت کے نظام میں خون کی کمی (انیمیا) کی تشخیص ہونے والے افراد میں کینسر اور اموات کے خطرے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی جانے والی اس آبادی پر مبنی تحقیق کے نتائج روزمرہ علاج کے دوران انیمیا کے مریضوں کی بہتر نگرانی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا: وزیراعظم
انیمیا ایک عام طبی حالت ہے جس میں خون میں ہیموگلوبن کی سطح معمول سے کم ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق میں سائنس دانوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ نئے تشخیص شدہ انیمیا کا کینسر اور اموات کے خطرے سے کیا تعلق ہے، اور یہ بھی دیکھا کہ سرخ خون کے خلیوں کے سائز کے مطابق انیمیا کی مختلف اقسام اس خطرے کو کس حد تک متاثر کرتی ہیں۔
یہ تحقیق اسٹاک ہوم ارلی ڈیٹیکشن آف کینسر اسٹڈی (STEADY-CAN) کے رجسٹر ڈیٹا پر مبنی تھی، جس میں 2011 سے 2021 تک اسٹاک ہوم کاؤنٹی کی تقریباً پوری بالغ آبادی کو شامل کیا گیا۔
مطالعے میں تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار ایسے بالغ افراد شامل کیے گئے جن میں نیا انیمیا تشخیص ہوا، جبکہ ان کے مقابلے میں اتنی ہی تعداد میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جنہیں انیمیا نہیں تھا۔ تمام شرکاء کی عمر 18 سال سے زائد تھی اور مطالعے کے آغاز پر کسی بھی فرد کو کینسر لاحق نہیں تھا۔
ان تمام افراد کو انیمیا کی تشخیص کے بعد 18 ماہ تک فالو کیا گیا، جس کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ انیمیا کے شکار مردوں میں سے 6.2 فیصد کو کینسر ہوا، جبکہ خواتین میں یہ شرح 2.8 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں بغیر انیمیا کے افراد میں یہ شرح مردوں کے لیے 2.4 فیصد اور خواتین کے لیے 1.1 فیصد تھی۔
اسی طرح اموات کی شرح بھی انیمیا والے گروپ میں زیادہ دیکھی گئی۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ ایلینور نیملینڈر کے مطابق کینسر اور موت کا خطرہ انیمیا کی تشخیص کے بعد ابتدائی مہینوں میں سب سے زیادہ ہوتا ہے، تاہم یہ بڑھا ہوا خطرہ بعد کے عرصے میں بھی برقرار رہتا ہے۔