جرمنی اور ترکیہ میں افغان مہاجرین کی ملک بدری کے عمل میں تیزی آئی ہے، جس کی وجہ ان کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں اور سیکیورٹی سے متعلق شکایات ہیں۔
سڑکوں کی کھدائی پر عوام سے معذرت، وزیراعلیٰ کی صاف پانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت
اطلاعات کے مطابق جرمنی میں افغان مہاجرین کے لیے سخت امیگریشن پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ ایک حالیہ کیس میں منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایک افغان مہاجر کو ملک بدر کیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق 2025 میں سنگین جرائم میں ملوث 83 افغان پناہ گزینوں کو ملک سے نکال دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 11,888 رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو جرمنی چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کی واپسی ناگزیر ہے۔
اسی طرح ترکیہ میں بھی 32 افغان مہاجرین کو غیر قانونی نقل و حرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جو ٹینکر میں چھپ کر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ترک امیگریشن حکام کے مطابق 2025 میں 42,000 غیر قانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔
سیکیورٹی حلقوں میں افغان مہاجرین کے دہشت گرد گروہوں سے ممکنہ روابط پر تشویش پائی جاتی ہے۔ دفاعی ماہرین نے افغان طالبان کی انتہاپسندی اور افغان مہاجرین کی سرگرمیوں کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکا میں بھی افغان مہاجرین پر امیگریشن پابندیاں برقرار ہیں۔