اگر آپ اپنی زندگی میں امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہر رات نیند کے لیے ایک مخصوص عادت اپنانا انتہائی مفید ہو سکتا ہے۔
فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ سونے کے ایک مقررہ وقت پر بستر پر جانا دل کی صحت کے لیے اہم ہے اور اس سے جان لیوا امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
سمجھ نہیں آتی سیشن جج کیوں شناختی کارڈ بلاک کر دیتے ہیں، چیف جسٹس
Oulu یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 3231 افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر 46 سال تھی۔ تحقیق کے دوران کلائی پر ٹریکر پہن کر ایک ہفتے تک ان افراد کی نیند کی عادات کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ محققین نے دیکھا کہ وہ ہر رات کتنے گھنٹے سوتے ہیں اور کس وقت بستر پر لیٹتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ جن افراد کا سونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا، ان میں اگلی دہائی میں امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر ان افراد میں، جو ہر رات 8 گھنٹے سونے سے قاصر ہیں، سونے کے شیڈول کی اہمیت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
اسی طرح، سونے اور جاگنے کے اوقات میں یکسانیت نہ ہونے سے دل کی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ محققین کے مطابق، نتائج عندیہ دیتے ہیں کہ سونے کے وقت کا طے شدہ شیڈول دل کی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگرچہ تحقیق کے نتائج کو ابھی ٹھوس قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تعلق صرف سونے کے وقت کے غیر معین ہونے اور 8 گھنٹے سے کم نیند کے درمیان دریافت ہوا، تاہم جو افراد ہر رات 8 گھنٹے سونے کے عادی ہیں، ان میں سونے اور جاگنے کے شیڈول کی یکسانیت نہ ہونے سے خطرہ نہیں بڑھتا۔
محققین نے کہا کہ اس تعلق کی وجہ کو ابھی ثابت نہیں کیا جا سکا اور یہ صرف مشاہدے پر مبنی دریافت ہے۔ ان کے مطابق مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن 24 گھنٹے کے قدرتی سائیکل کا دل کی صحت پر اثر ممکنہ طور پر اہم ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ہونے والے تحقیقی کام میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ سونے کا کوئی وقت طے نہ ہونا دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، مگر یہ تحقیق پہلی بار سونے اور جاگنے کے اوقات کے نظام کو بھی تفصیل سے جائزہ لے رہی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل **BMC Cardiovascular Disorders** میں شائع ہوئے ہیں۔