گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 کی تیاری تیز، آل پارٹیز کانفرنس میں ضابطہ اخلاق اور انتظامات پر بریفنگ
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ایک اہم آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان (تمغہ شجاعت) نے کی۔ کانفرنس میں پرووینشل الیکشن کمشنر گلگت بلتستان عابد رضا، کمیشن کے دیگر اعلیٰ حکام اور گلگت بلتستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے انعقاد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے انتخابی عمل کو صاف، شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر سیاسی و مذہبی جماعتوں، انتخابی امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کے لیے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے اہم نکات سے آگاہ کیا گیا اور اس پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ انتخابی مہم کے دوران پینا فلیکس اور غیر ضروری تشہیری مواد پر مکمل پابندی ہوگی اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ امیدوار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہر سطح پر قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انتخابی عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک جدید مانیٹرنگ نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے انتخابی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی بے ضابطگی کو بروقت روکا جائے گا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن گلگت بلتستان آزاد، صاف، شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صاف، شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون
ناگزیر ہے اور الیکشن کمیشن اس قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دینے کے لیے پرعزم ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ کانفرنس میں شریک سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں اور الیکشن کمیشن کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے شفاف انتخابات کے لیے کمیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 25 سال بعد بلدیاتی انتخابات 14 جون 2026 کو منعقد ہوں گے اور اس کا انتخابی شیڈول جلد جاری کیا جائے گا جبکہ اس حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر 1989 ممبران منتخب ہوں گے جن میں خواتین کی نمائندگی بھی شامل ہوگی۔ اس انتخابی عمل کے لیے 164 یونین کونسلز، 10 ڈسٹرکٹ کونسلز اور 3 میونسپل کارپوریشنز قائم کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے لیے 3048 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے جبکہ تقریباً 13 ہزار افسران و اہلکاروں پر مشتمل عملہ تعینات کیا جائے گا تاکہ انتخابی عمل کو منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ایک اور سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔