Gas Leakage Web ad 1

لاہور کے قدیم اور معروف کلب میں خاتون سے جنسی زیادتی کا واقعہ

0

آج صبح سویرے گذشتہ رات لاہور کے قدیم اور معروف کلب میں خاتون سے جنسی زیادتی کی ایف آئی آر درج ہوئی اور وائرل بھی ہوگئی۔

Gas Leakage Web ad 2

نام ظاہر نہ کرنے پر کلب انتظامیہ کے متعدد ملازمین نے بتایا کہ گذشتہ رات موقع پر خاتون نے پچانوے لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی۔آفیسر دس لاکھ کیش سے سٹارٹ ہوا اور پچاس لاکھ روپے کیش تک آفرز کرتا رہا حتیٰ کہ بیچارے نے اپنی عزت اور نام بچانے کیلئے ہونڈا سوک گاری نام کروانے کی آفر کی۔

مبینہ طور اس دوران خاتون ٹیلی فون پر بھی ہدایات لیتی رہی،ٹیلی فون کال پر موجود نامعلوم نے پچانوے لاکھ کیش پر ہی اسرار کرنے کو کہا۔اس بحث و مباحثہ میں آفیسر چھپ چھپا کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔جیسے ہی آفیسر فرار ہوا خاتون نے 15 پر کال کر دی۔میں نے اپنے16مئی کے کالم میں انکشاف کیا تھا کہ کئی منظم گروہ سرکاری افسران اور بڑے تاجروں کو اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر مسلسل لوٹ رہے ہیں۔لمحہ فقریہ ہے کہ ایسے متعدد گینگ سر عام بلیک میلنگ اور لوٹ مار کررہے ہیں اور ہمارے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔کالم میں ایک آفیسر کا واقعہ بھی تحریر کیا تھا کہ ایس پی نے آفیسر سے تعاون کرنے کی بجائے اپنے ایس ایچ او کو کہا کہ خاتون کو پیسے دلوا دو نہیں دیتا تو ایف آئی آر کردو۔اکثر یت واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور بند کمرے میں ہی ڈیل ہوجاتی ہے۔متعدد واقعات میں ایس ایچ او خود ہی موقع پر حل کروادیتے ہیں کہ صاحب جی عزٹ بچاؤ تے پیسے دے کے دفعہ کرو۔

میرا خیال ہے کہ اداروں کو تھوڑی حیا کرنی چاہئے اور خواب غفلت سے بیدار ہوجانا چاہئے۔ سپیشل پرانچ،سی ٹی ڈی،سی آئی اے،ایف آئی اے، آئی بی،ایم آئی اور آئی ایس آئی کے سنئیر افسران پر مشتمل ایک جی آئی ٹی بنانی چاہئے۔تمام تھانوں سے ایسی تمام درخواستوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا جائے اورتحقیقات کرکے ایسے تمام نیٹ ورک کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائی۔ مہینوں اور سالوں سے ایسے گینگ لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں اور پولیس سے کچھ افراد ان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

ایک خاتون اینکر کے بارے بھی ایسی خبریں گرم رہی کہ وہ افسران سے دوستیاں کرکے کام نکلواتی ہے۔افسران کو بھی چاہئے کہ فرط جذبات میں بہنے کی بجائے تھوڑے پر اکتفا کر لیں۔دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک نہ سہی کچھ لبرل اسلامی ممالک کی طرح ہی سہی ہمیں بھی قانون سازی کرنا ہوگی۔مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میری اس تحریر کے بعد مافیا پہلے کی طرح اور زیادہ میرے خلاف ہوجائے گا لیکن مجھے کبھی اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں رہا کیوں کی نہ تو میں اخلاقی کرپٹ ہوں اور نہ مالی طور پر کسی کا روادار۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.