Gas Leakage Web ad 1

عورت کے آنسو، مردوں کا معاشرہ اور ایک بے بس ماں کی فریاد

غزل ملک

0

نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ایک خاتون کی جانب سے ان کی موت کو ’’ایول ڈیڈ‘‘ کا نام دینے کی خبر سامنے آئی تو ایک واقعہ یاد آ گیا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ معروف پروڈیوسر میراج الدین کے ساتھ ہونے والی میری ایک سہیلی کی ملاقات کی کہانی ذہن میں تازہ ہو گئی۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ محض ایک عورت کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تلخ رویے کی عکاسی ہے جہاں عورت کی خاموشی کو اس کی کمزوری، اس کے آنسوؤں کو اس کی مجبوری اور اس کی بے بسی کو بعض لوگ اپنی طاقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم زندگی میں کتنے ہی ایسے کام کر گزرتے ہیں جیسے ہمیں کبھی موت کا سامنا ہی نہیں کرنا، جیسے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ مگر شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کسی زندہ انسان کو اندر سے مار دینا بھی ایک ظلم ہے۔

میری ایک سہیلی ایک دن شدید پریشان، بیمار اور اداس تھی۔ اس کے چہرے پر ایسی تھکن تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس نے مجھ سے کہا:

’’غزل! مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کروں۔ میں اپنے ماں باپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ میرے اندر اب مزید ہمت نہیں رہی۔ میں بہت تھک چکی ہوں۔ میرا دل اتنی تکلیف میں ہے کہ اب برداشت نہیں ہوتی۔ جب میں خود کو ہی نہیں سنبھال پا رہی تو اس معصوم جان کو کیسے سنبھالوں جسے لے کر میں اپنے والدین کے گھر آ گئی ہوں؟ اللہ نے مجھے ایک خوب صورت نعمت، ایک بیٹے سے نوازا ہے۔ میں اسے اس دنیا میں ایسا انسان کیسے بنا سکوں گی جسے عورت کے دکھ اور تکلیف کا احساس ہو؟‘‘

اس کی باتیں سن کر میں خاموش ہو گئی۔ میرے پاس اسے تسلی دینے کے لیے الفاظ تو تھے، مگر اس کے دکھ کا بوجھ کم کرنے کا کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔

اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اس نے محبت کی شادی کی تھی۔ اپنے والدین سے لڑ کر، دوستوں کی مخالفت مول لے کر اور سب کی نصیحتوں کو نظرانداز کرکے۔ سب نے اسے سمجھایا تھا کہ یہ شادی نہ کرے، مگر محبت کے احساس نے اسے اس قدر اپنی گرفت میں لے رکھا تھا کہ اسے اس شخص کے اندر چھپی حقیقت سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔

نہ وہ لوگوں کی باتوں میں چھپی حقیقت کو سمجھ سکی، نہ اس شخص کے کردار کو وقت دے کر پرکھ سکی اور نہ ہی یہ جان سکی کہ جس شخص کو وہ اپنی پوری زندگی کا ساتھی بنانے جا رہی ہے، وہ مشکل وقت میں اس کا سہارا بنے گا یا اس کی سب سے بڑی آزمائش۔

وہ کہنے لگی:

’’غزل! شادی کے بعد میری پوری دنیا بدل گئی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میں اتنی بہادر لڑکی نہیں تھی جتنا خود کو سمجھتی تھی۔ مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ شادی کرنے اور کسی کو پوری زندگی کا ساتھی بنانے سے پہلے اس کے اندر کے انسان کو جاننا اور سمجھنا کتنا ضروری ہے۔‘‘

اس نے بتایا کہ شادی کے اگلے ہی دن اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اپنے شوہر کا سخت اور دل دکھانے والا رویہ دیکھ کر اسے محسوس ہوا کہ اس کی زندگی بدل چکی ہے۔ اب وہ اپنے والدین کے گھر کی شہزادی نہیں رہی تھی، بلکہ ایک ایسے رشتے میں بندھی ہوئی عورت تھی جہاں اسے اپنی عزت، اپنے جذبات اور اپنی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی تھی۔

وہ میرا نام لے کر رونے لگی۔’’غزل! میں نے ہمیشہ سر اٹھا کر زندگی گزاری ہے۔ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، کبھی کسی کے سامنے روئی نہیں، کبھی کسی کے آگے اپنی عزت نفس کو جھکنے نہیں دیا۔ لیکن آج میری زندگی مجھے کہاں لے آئی ہے؟‘‘

پھر اس نے اپنے بیٹے کا ذکر کیا۔ اس کی آواز میں درد بھی تھا اور اپنے بچے کے لیے محبت بھی۔

’’اللہ نے مجھے ایک بیٹا دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے یہ مجھ پر اللہ کا کوئی معجزہ ہے۔ مگر میری زندگی میں جو کچھ ہوا، اس نے مجھے اندر سے توڑ دیا ہے۔ مجھے زہر دینے کی کوشش کی گئی، حمل کے دوران مجھے مارا پیٹا گیا، ذلیل کیا گیا۔ اور پھر جب میں نے ایک بچے کو جنم دیا تو اگلے ہی دن پورے خاندان کے سامنے میری تذلیل کی گئی۔ صرف اس بات پر کہ مجھے بچے کو دودھ پلانا نہیں آتا تھا۔‘‘

سوچیے، ایک عورت جو ابھی بچے کو جنم دینے کے بعد جسمانی کمزوری، درد اور ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہو، اسے سہارا دینے کے بجائے اس کی تذلیل کی جائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

ماں بننا یقیناً ایک خوب صورت احساس ہے، مگر اس کے ساتھ جسمانی تکالیف، جذباتی تبدیلیاں اور بے شمار ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ ایک نئی ماں کو محبت، آرام، رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ طعنوں اور تذلیل کی۔

وہ روتے ہوئے بتانے لگی کہ بالآخر اس نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا:

’’ابو! مجھے بھوک لگی ہے۔ یہاں مجھے کھانے کے بجائے تھپڑ مل رہے ہیں۔ میرا بچہ بھی مجھ سے چھین کر ساس اپنے کمرے میں لے گئی ہیں۔ ابو! میرے لیے کچھ کھانا لے آئیں۔‘‘

اس کے والد عمر رسیدہ تھے۔ وہ اس وقت سو رہے تھے اور ان کی بینائی بھی کمزور تھی۔ لیکن بیٹی کی آواز میں چھپی بے بسی نے انہیں اٹھنے پر مجبور کر دیا۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے کھانا لے کر پہنچے تو انہیں دروازے سے اندر آنے تک نہ دیا گیا۔ سڑک پر کھڑے ایک بزرگ باپ کی تذلیل کی گئی۔

بالآخر جب وہ اندر پہنچے تو بیٹی ان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔

اس نے کہا:

’’غزل! میں اپنے ابو کی آنکھوں میں کیسے دیکھتی؟ میں نے محبت کی شادی کی تھی۔ میں نے اپنے والدین کو چھوڑ کر جس شخص پر بھروسا کیا تھا، آج اسی کے گھر میں میرے والد کو میری خاطر ذلت برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔‘‘

کھانا دینے کے بعد اس کے والد کو یہ بھی سننا پڑا کہ اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اسے سکھاؤ کہ بچے کو دودھ کیسے پلاتے ہیں۔

وہ اپنے بیٹی اور نواسے کو ساتھ لے کر گھر واپس آ گئے۔

ایک دو دن بعد جب میری سہیلی نے بستر سے اٹھ کر خود کو اور بچے کو سنبھالنا شروع کیا تو اسے احساس ہوا کہ وہ جسمانی طور پر اتنی کمزور ہے کہ بچے کو مناسب مقدار میں دودھ نہیں پلا پا رہی۔ بچہ بھوکا رہتا اور روتا تھا۔ گھر والوں نے مشورہ دیا کہ بچے کے لیے لیکٹوجن ملک کا ڈبہ لے لیا جائے اور ساتھ ہی جتنا ممکن ہو، ماں کا دودھ بھی پلایا جائے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔

شادی پر اس کی تمام جمع پونجی خرچ ہو چکی تھی۔ اس کے والد بھی عمر رسیدہ تھے اور ان کے لیے اتنا مہنگا دودھ خریدنا آسان نہیں تھا۔ دوسری طرف، سسرال سے دو ہفتوں تک کوئی اس کی خیریت پوچھنے بھی نہیں آیا۔

وہ مجھ سے کہنے لگی:

’’غزل! میں بہت پریشان تھی۔ میری ساری بچت شادی پر خرچ ہو گئی تھی۔ میرے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔ میں اپنے بچے کے لیے دودھ کا ڈبہ بھی نہیں خرید سکتی تھی۔ میں اپنے شوہر کو سمجھانا چاہتی تھی، اس لیے اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے رابطہ کرنا شروع کیا کہ شاید کوئی اسے سمجھا سکے۔ لیکن مجھے مدد کے بجائے طعنے اور ذلت ہی ملی۔‘‘

پھر اس کے ایک پرانے جاننے والے نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اسے ایک پروڈیوسر سے ملواتا ہے اور بطور ٹک ٹاکر متعارف کروا دیتا ہے، شاید اسے کام مل جائے اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔

یوں اس کی ملاقات پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ پروڈیوسر میراج الدین سے ہوئی۔

یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کے بارے میں سنگین الزام کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریق کا مؤقف جاننا ضروری ہے۔ اس واقعے میں جو کچھ آگے بیان کیا جا رہا ہے، وہ میری سہیلی کی اپنی زبانی سنائی گئی روداد ہے۔

میری سہیلی نے بتایا کہ ایک دن وہ ایک ایونٹ میں گئی۔ واپسی پر وہ اور اس کے چند ساتھی میراج الدین کے گھر، جو بظاہر دفتر جیسا ماحول رکھتا تھا، پہنچے۔ وہاں سے سب نے اپنی اپنی سواری کے ذریعے گھر جانا تھا۔ جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں تھیں، وہ روانہ ہو گئے، جبکہ اسے اپنی ان ڈرائیو سواری کا انتظار کرنا پڑا۔

اس نے بتایا کہ اس ایونٹ میں شرکت کے لیے اسے بطور ٹک ٹاکر دس ہزار روپے ملے تھے۔ اس کے لیے یہ رقم محض پیسے نہیں تھی، بلکہ اپنے بچے کی ضروریات پوری کرنے اور دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ایک امید تھی۔

وہ کہنے لگی:

’’غزل! مجھے وہاں کا ماحول کچھ عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ اچانک میراج الدین اپنی کرسی سے اٹھے اور میری طرف آنے لگے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کسی کے سامنے رویا نہ کرو، جب پیسوں کی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ پھر وہ میری طرف جھپٹے۔ میں نے انہیں پیچھے دھکیلا اور وہاں سے بھاگ نکلی۔‘‘

یہ بتاتے ہوئے اس کی آواز پھر بھرا گئی۔

اس نے کہا کہ وہ سڑک پر کھڑی اپنی ان ڈرائی کا انتظار کر رہی تھی کہ گاڑی آ گئی۔ ڈرائیور نے اسے روتے ہوئے دیکھا تو اس کی حالت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے ڈرائیور کو بتایا کہ ابھی اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

اس کی کہانی کا یہ حصہ سناتے ہوئے میں خود بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ایک عورت جو اپنے بچے کے دودھ کے لیے پریشان ہو، اپنے گھر کے حالات سے لڑ رہی ہو اور عزت کے ساتھ روزگار تلاش کرنے نکلی ہو، اسے ہر قدم پر اپنی حفاظت اور عزت نفس کی جنگ کیوں لڑنی پڑتی ہے؟

میری سہیلی کے مطابق، ڈرائیور نے اسے تسلی دی اور کہا:

’’آپ پریشان نہ ہوں۔ چلیں، میں آپ کو مارکیٹ لے جاتا ہوں تاکہ آپ بچے کے لیے دودھ خرید سکیں۔ اپنے آنسو صاف کریں اور گھر جائیں۔ اگر آئندہ بھی بچے کے دودھ کے لیے ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجیے گا۔ جب تک آپ دوبارہ کمانے کے قابل نہیں ہو جاتیں، میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد کر دوں گا۔‘‘

اس نے بتایا کہ ڈرائیور نے اسے اپنا نمبر بھی دیا تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ اس سے رابطہ کر سکے۔

وہ کہنے لگی:

’’غزل! اس دن مجھے احساس ہوا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ جس شخص سے میرا کوئی رشتہ نہیں تھا، جسے میری مجبوری سے کوئی فائدہ نہیں ملنا تھا، اس نے میری تکلیف کو سمجھا۔ اس نے مجھے ذلیل نہیں کیا، مجھ سے کوئی قیمت نہیں مانگی، بلکہ مجھے سہارا دینے کی کوشش کی۔‘‘

یہاں میری سوچ ایک سوال پر آ کر ٹھہر جاتی ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں ایک عورت کے آنسو اس کی کمزوری کیوں بن جاتے ہیں؟ اس کی مجبوری کو اس کی بے بسی سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟ اور جو عورت اپنے بچے کے لیے روزگار تلاش کرنے نکلے، اسے اپنی عزت اور حفاظت کے بارے میں ہر لمحہ خوف زدہ کیوں رہنا پڑتا ہے؟

محبت کی شادی غلط نہیں، مگر محبت کے نام پر کسی انسان کو جانے بغیر اپنی پوری زندگی اس کے حوالے کر دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے نتائج بعض اوقات ناقابلِ برداشت ہو جاتے ہیں۔ کسی شخص کا اصل کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب زندگی مشکل ہو، جب بیماری ہو، جب معاشی تنگی ہو اور جب ایک عورت کو سب سے زیادہ سہارے کی ضرورت ہو۔

شادی صرف دو لوگوں کے درمیان ایک معاہدہ یا سماجی بندھن نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی عزت، تحفظ، ذمہ داری اور مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کا نام ہے۔ شوہر کا کردار صرف گھر چلانے یا معاشی ذمہ داری پوری کرنے تک محدود نہیں ہوتا۔ اس میں بیوی کی عزت نفس کا خیال رکھنا، اس کی جسمانی اور جذباتی ضروریات کو سمجھنا اور اسے خوف سے آزاد ماحول فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

اسی طرح، والدین کا گھر کسی بیٹی کے لیے زندگی بھر کی پناہ گاہ رہنا چاہیے، جہاں وہ مشکل وقت میں واپس آ سکے، جہاں اسے بوجھ نہ سمجھا جائے اور جہاں اس کے بچے کو بھی محبت اور تحفظ ملے۔

میری سہیلی کے آنسوؤں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم کس قسم کا معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں؟ ہم بیٹیوں کو شادی کے لیے تو تیار کرتے ہیں، مگر کیا انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ کسی انسان کے کردار کو کیسے پرکھنا ہے؟ کیا ہم انہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر شادی میں تشدد، تذلیل یا استحصال کا سامنا ہو تو مدد مانگنا شرمندگی نہیں؟ کیا ہم اپنے بیٹوں کو یہ تربیت دیتے ہیں کہ عورت کی عزت کرنا صرف اپنی ماں اور بہن تک محدود نہیں، بلکہ ہر عورت کا بنیادی حق ہے؟

اور سب سے اہم سوال کیا ہم کسی مجبور انسان کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انسان ہے، یا اس لیے کہ اس کی مجبوری سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟

اس ڈرائیور نے، میری سہیلی کی بیان کردہ روداد کے مطابق، اس کی مدد کر کے ثابت کیا کہ انسانیت کسی بڑے عہدے، شہرت یا دولت کی محتاج نہیں۔ کبھی کبھی ایک اجنبی کا چھوٹا سا قدم بھی کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جینے کی ہمت دے سکتا ہے۔

میں نے اس دن یہ بھی محسوس کیا کہ عورت کا رونا جرم نہیں، اس کی مدد مانگنا شرمندگی نہیں اور اس کی مجبوری کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اس کی عزت نفس کو پامال کرے۔

ہم سب کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ عہدے، نہ شہرت اور نہ ہی وہ طاقت جس کے نشے میں ہم کسی دوسرے انسان کو تکلیف دیتے ہیں۔ باقی رہ جائے گا تو صرف ہمارا کردار اور وہ سلوک جو ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ کیا۔

شاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ عورت روتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ بعض لوگ اس کے آنسو پونچھنے کے بجائے انہی آنسوؤں کو اس کی کمزوری سمجھ کر اس کا فائدہ اٹھانے لگتے ہیں۔

اور میں آج بھی یہی سوچتی ہوں کہ جس معاشرے میں ایک ماں اپنے بچے کے دودھ کے لیے روئے، ایک بیٹی اپنے والد کے سامنے نظریں نہ اٹھا سکے اور ایک عورت روزگار کی تلاش میں اپنی عزت کے تحفظ سے خوف زدہ رہے، وہاں ترقی کے دعووں سے پہلے ہمیں اپنے رویوں کا احتساب کرنا چاہیے۔

کیونکہ عورت کو صرف زندہ رہنے کا نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور وقار کے ساتھ جینے کا بھی حق حاصل ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.