دنیا کے نقشے پر اگر کسی خطے نے جنگوں، تباہیوں اور اندرونی اختلافات کے باوجود خود کو دوبارہ کھڑا کیا تو وہ یورپ ہے۔ آج یورپ ترقی، قانون، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور مضبوط اداروں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یورپ نے ترقی کیسے کی؟
کیا یہ صرف دولت کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اجتماعی سوچ، نظم اور قربانی بھی شامل تھی؟
اور سب سے اہم بات یہ کہ تیسری دنیا کے ممالک، خصوصاً پاکستان,بنگلہ دیش سری لنکا اور نیپال وغیرہ یورپ کی ترقی سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
یورپ کی ترقی کا سب سے بڑا راز مضبوط ادارے اور قانون کی حکمرانی ہے۔ یہاں قانون صرف غریب کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ صدر ہو، وزیراعظم، وزیر، مشیر یا عام شہری، اگر قانون توڑتا ہے تو جواب دہ ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ترقی یافتہ اور پسماندہ معاشروں میں واضح نظر آتا ہے۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں شخصیات مضبوط اور ادارے کمزور ہیں جبکہ یورپ میں ادارے طاقتور اور شخصیات قانون کے تابع اور جواب دہ ہیں اور کوئی قانون سے بالا تر نہیں۔
یورپ میں عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد ترقی کی ایک بڑی بنیاد ہے۔ یہاں عدالتیں سیاسی دباؤ سے آزاد سمجھی جاتی ہیں اور ان کے فیصلوں کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ کئی یورپی ممالک میں طاقتور حکمرانوں، وزراء اور کاروباری شخصیات کے خلاف بھی عدالتوں نے فیصلے دئیے اور ان فیصلوں کو ریاستی اداروں نے تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد نظام پر قائم رہا۔ تیسری دنیا کے ممالک کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے کہ اگر عدالتیں آزاد، مضبوط اور غیر جانبدار ہوں تو معاشرے میں انصاف، استحکام اور سرمایہ کاری فروغ پاتی ہے۔ عدالتی فیصلوں کی تحسین اور ان پر عملدرآمد دراصل جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بناتا ہے پاکستان میں اگر آج سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے تو اس کی اصل وجہ عدلیہ کی آزادانہ فیصلوں پر سوالیہ نشان ہے۔
یورپ کی ترقی میں دوسرا اہم عنصر تعلیم نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یورپی اقوام نے صدیوں پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ قوموں کی قسمت ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم سے بدلتی ہے۔ یونیورسٹیاں، ریسرچ سینٹرز، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی نے یورپ کو دنیا کی قیادت دی۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے صنعتی انقلاب کے ذریعے دنیا کی معیشت بدل دی۔ آج بھی یورپ کے ترقی یافتہ ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم اور تحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔
یورپ کی تاریخ میں چرچ اور پادریوں کا کردار بھی انتہائی اہم رہا ہے ایک وقت تھا جب کلیسا صرف مذہبی ادارہ نہیں بلکہ سیاسی طاقت بھی تھا۔ بادشاہوں کی حکومتیں پادریوں کی قصیدہ گوئی اور حمایت سے چلتی تھیں اور عام لوگوں کی زندگی مذہبی قوانین کے تابع تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یورپ میں اصلاحی تحریکیں شروع ہوئیں۔ لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کیے، سائنسی تحقیق کو اہمیت دی گئی اور مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دے کر ریاستی امور کو جدید اصولوں پر استوار کیا گیا۔ اس تبدیلی نے یورپ میں فکری آزادی پیدا کی۔ اس کا ہرگز مطلب مذہب سے نفرت نہیں بلکہ ریاستی معاملات میں توازن پیدا کرنا تھا تاکہ تعلیم، سائنس اور قانون آزادانہ ترقی کر سکیں۔
فوج کا کردار بھی یورپ کی ترقی میں اہم رہا، مگر وہاں کی افواج نے زیادہ تر قومی سلامتی اور دفاع تک خود کو محدود رکھا اور فوج کی عملداری سیاسی و انتظامی اداروں پر اثر انداز نہیں ہونے دی گئی۔ یورپ کے کئی ممالک نے دو عالمی جنگوں کی تباہی کے بعد یہ سیکھ لیا کہ سیاسی عدم استحکام ترقی کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے وہاں فوج اور سیاسی نظام کے درمیان واضح حدود قائم کی گئیں۔ فوج نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دی جبکہ منتخب حکومتوں کو پالیسی سازی کا اختیار ملا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں جمہوریت مضبوط ہوئی اور ادارے مستحکم ہوتے گئے۔
اس کے برعکس تیسری دنیا کے کئی ممالک میں طاقت کی کشمکش نے ترقی کا راستہ روکے رکھا۔ کہیں سیاسی عدم استحکام رہا تو کہیں آمریتوں نے جمہوری عمل کو کمزور کیا اور کہیں کرپشن نے اداروں کو کھوکھلا کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ جب ادارے کمزور اور فیصلے شخصیات کے گرد گھومنے لگیں تو قومی ترقی رک جاتی ہے۔
یورپ کی ترقی کا ایک اور راز محنت، وقت کی پابندی اور اجتماعی سوچ ہے۔ وہاں صفائی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ٹیکس دینا قومی خدمت تصور کیا جاتا ہے۔ لوگ قانون توڑنے کو چالاکی نہیں بلکہ شرمندگی سمجھتے ہیں۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں بڑی قومیں بناتی ہیں۔ وہاں سرکاری افسر سے لے کر عام مزدور تک اپنے فرائض کو ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے سے نہیں آتی بلکہ انصاف، تعلیم، دیانت داری اور میرٹ کے نظام سے آتی ہے۔ جب تک سفارش، اقربا پروری اور کرپشن ختم نہیں ہوگی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ قوموں کی تقدیر جلسوں، نعروں اور دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اصلاحات سے بدلتی ہے۔
پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے نوجوان آج یورپ جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف معاشی مواقع نہیں بلکہ وہاں کا نظام، انصاف اور انسانی عزت ہے۔ اگر ہم اپنے ممالک میں قانون کی بالادستی، تعلیم، میرٹ اور مضبوط ادارے قائم کر لیں تو ہمارے نوجوانوں کو بیرون ملک جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
یورپ نے اپنی تاریخ میں جنگیں بھی دیکھیں، غربت بھی دیکھی اور سیاسی بحران بھی برداشت کیے مگر انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا۔ یہی سب سے بڑا راز ہے۔ ترقی یافتہ قومیں غلطیوں کو دہراتی نہیں بلکہ ان سے سیکھتی ہیں۔
آج تیسری دنیا کے لیے اصل سبق یہی ہے کہ ترقی کا راستہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، برداشت، انصاف، جمہوریت، آزاد عدلیہ اور مضبوط اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب قومیں اور ان کی قیادت اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی سوچ اپناتی ہیں تو پھر تاریخ بدل جاتی ہے۔آج اگر دنیا بھر کے باشندے یورپ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ امن بھائی چارے اور باہم ہم آہنگی میں رہ رہے ہیں تو یہاں کے جمہوری اور سیکولر نظام کا خاصا ہے