پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز میں سب سے سنگین مسئلہ محض وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ٹیکس نظام اس ناانصافی کی واضح مثال بن چکا ہے، جہاں بوجھ کا بڑا حصہ تنخواہ دار اور عام شہری کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ بااثر اور بڑے آمدنی والے طبقات بدستور نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست جب بھی مالی دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو فوری اور آسان حل کے طور پر عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے چاہے وہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو، توانائی کے نرخ ہوں یا نئے ٹیکسز۔ اس کے برعکس حکومتی اخراجات میں مؤثر کمی، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور دیرپا اصلاحات پر سنجیدہ پیش رفت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔
مزید برآں، عام شہری نہ صرف براہِ راست بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے بھی مسلسل مالی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اس کے مطابق بہتر نہیں ہو پاتی۔ اس عدم توازن نے معاشرے میں احساسِ محرومی اور بداعتمادی کو جنم دیا ہے، جو کسی بھی معیشت کے لیے خطرناک علامت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو منصفانہ، جامع اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ ہر صاحبِ استطاعت فرد اور شعبہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ ساتھ ہی حکومتی اخراجات میں شفافیت اور کفایت شعاری کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ ان کے وسائل درست سمت میں استعمال ہو رہے ہیں۔
آخرکار، ایک مستحکم معیشت کی بنیاد صرف محصولات میں اضافے پر نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور متوازن پالیسی سازی پر ہوتی ہے۔ جب تک یہ اصول اپنائے نہیں جاتے، یہ سوال اپنی اہمیت برقرار رکھے گا آخر قصور کس کا ہے؟