Gas Leakage Web ad 1

!!!محسن انسانیت کا انسانی حقوق کا عظیم چارٹر

!!!محسن انسانیت کا انسانی حقوق کا عظیم چارٹر

0

!!!محسن انسانیت کا انسانی حقوق کا عظیم چارٹر

Gas Leakage Web ad 2

تحریر: نوشابہ یعقوب راجہ

لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا ۞

بیشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے ‘
ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت کے
دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو”۔

اللہ رب العالمین ہیں اور نبی مہربان کو رحمت اللعالمین بنایا اور ان پر نبوت کا سلسلہ مکمل فرمایا اور اب تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔

نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامل نمونہ تھے اور رہتی دنیا تک ان کی ذات ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ رب العزت نے نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار امتحانات میں سے گزارا، ان سے مکہ کے جاہل معاشرے کی بیشمار جاہلانہ رسومات تڑوائیں۔سخت سے سخت امتحانات میں انسانیت کے لیے سراپا رحمت پایا۔

باپ کی شفقت سے محروم ،ماں بھی بہت چھوٹی سی عمر میں انتقال کر گئی ۔دادا عبدالمطلب اور پھر چچا ابو طالب نے شفقت سے پالا ۔چچا کے ساتھ انتھک محنت کی اور زمانے سے صادق و امین کا لقب پایا۔اپنی منفرد اور باکمال شخصیت سے مکہ میں ایک الگ مقام رکھتے تھے۔

جب نبوت ملی اعلان کیا تو مکہ میں خانہ کعبہ میں 365 بت تھےلات،منات،ہبل،ہذا۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ قریش کے سرداروں کی پوجا اور تجارت کی منڈی تھی وہ کیونکر انکار کر برداشت کر سکتے تھے۔لہذا نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے پاس آکر کہا۔تمھارا بھتیجا کیا چاہتا ہے؟؟اگرکسی خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتا کروا دیتے ہیں سرداری کرنا چاہتا سردار بنا دیتے ہیں مال و دولت چاہتا بے حساب مال و دولت دیتے ہیں بس اس سے کہو ہمارے بتوں کی مخالفت نہ کرے۔بلایا گیا اور پیشکش سامنے رکھی گئی۔

نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اللہ کی قسم اگر میرے دائیں ہاتھ پر چاند اور بائیں ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے تو تب بھی اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آوں گابتوں کی مخالفت نہیں چھوڑوں گا”۔

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن ،وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طہ

یعنی چاند ،سورج سے مراد کائنات کی تمام دولت ٹھہری تب بھی کلمہ حق سے باز نہیں آوں گا۔قریش مکہ کو مسئلہ ہمارے نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں تھا مسئلہ اس دعوت سے تھا جو دنیا کے ہر خدا ہر بت پر ضرب لگا کر انسان کو آزاد کر کے صرف اللہ کی غلامی میں دیتا ہے۔
اتنے عظیم پیغمبر کے ماننے والے ہو کر بھی ہم اپنے نفس میں پلنے والے درجنوں خداوں سمیت دنیا کے بونے خداوں کے آگے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے سربسجود ہیں۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

یعنی اللہ کی محبت میں تمام کائنات اور جہاں وارنے والے سے کامل ایمان کس کا ہو سکتا ہے۔
مکہ میں نبوت اور دعوت و تبلیغ کے تیرہ انتہائی آزمائش کے سال ،
شعیب ابی طالب کی گھاٹی سے نکل کر مدینہ میں دس سال میثاق مدینہ ،صلح حدیبیہ،غزوہ بدر،احد،خندق لڑ کر جب فتح مکہ ہوتا ہے تواپنے چچا حضرت حمزہ کے قاتل اور کلیجہ چبانے والی ہندہ کے گھر کو امن کی جگہ قرار دے دیا جاتا ہے۔سب کو تمام ظالموں کو عام معافی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

وہ نبی مہربان اور ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معاشی ،معاشرتی ،عائلی،سیاسی غرضیکہ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی کامل نمونہ ہے۔
اس کائنات کے سب سے بڑے استاد اور ریفارمر جھنوں نے جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر انسان کو اوج ثریا پر پہنچایا۔انسانیت میں بلا تفریق مرد وعورت شاندار نظام زندگی اورمقام بخشا۔

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

ہمارے نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور زندگی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے ان کی ایک نگاہ پڑ جاتی تو اس شخص کی زندگی بدل جاتی اور اگر آج بھی قاری ایک نگاہ ہمارے محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی پر ڈالے تو اس کی زندگی میں انقلاب آنا ناگزیر ہے۔کیونکہ یہ ان کے کردار اور اخلاق کی بلندی ہے انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مگر افسوس ہم مسلمانوں نے میلاد تو سجاتے مگر دل میں نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے چراغ نہیں سجائے وگرنہ یوں آسمان اوج ثریا سے ہمیں زمین پر نہ دے مارتا۔

تیرے حسن خلق کی اک رمق
میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ
شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

دنیا کے سب سے کامیاب اور عظیم انسان
حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے
خطبہ الحج الوداع کے موقع پر عظیم خطاب کیا جو دنیا کا پہلا انسانی حقوق کا چارٹر ہے۔

اللہ کی حمد و ثنا

"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی حمد و ثنا کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اور اسی سے معافی چاہتے ہیں۔”
"ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔”

اسلامی معاشرتی اقدار

خون اور مال کا احترام: "تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اس طرح محترم ہیں جس طرح آج کا دن، یہ شہر اور یہ مہینہ محترم ہے”۔

عورتوں کے حقوق

"لوگو! تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور تمہارے ان پر کچھ حقوق ہیں۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ وہ تمہاری معاون اور مددگار ہیں، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”۔

اخوت اور مساوات

"اے لوگو! بےشک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے، سوائے تقویٰ کے”۔

غلاموں کے حقوق

"اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔ انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو”۔
جاہلیت کے رسوم کا خاتمہ

سود کی ممانعت

"آج کے دن سے ہر قسم کا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود ختم کرتا ہوں”۔

خون کا بدلہ

: "جاہلیت کے تمام خون کے بدلے باطل قرار دیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے ربیعہ بن حارث کے بچے کا خون معاف کرتا ہوں”۔

ہدایت کے اصول

قرآن اور سنت کی پیروی: "میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔

نبی کے بعد کوئی نبی نہیں: "میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تمہارے بعد کوئی نئی امت نہیں ہوگی۔”

دعوت اور شہادت

"جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ بعد میں آنے والے ان باتوں کو زیادہ بہتر سمجھیں۔”

"اے اللہ! گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔”
اللہ سے دعاگو ہوں وہ امت مسلمہ پر رحم فرمائے۔اتحاد و اخوت،بھائی چارہ عطا فرمائے۔مسلمانوں کو اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے اور ہمیں قیامت کے دن حوض کوثر سے پانی اور شفاعت نصیب فرمائے۔آمین

فکر نہیں ہے ہم کو کچھ بھی
غم کی دھوپ کڑی تو کیا
ہم پہ ان کے فضل کا سایہ
کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ
کل بھی تھا اور آج بھی ہے

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.