خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر خزانہ آصف محمود پاشا، مشیر بلدیات آصف رفیق، چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 100 اور 180 روزہ اہداف، سڑکوں کی بحالی، انڈر پاسز کی تعمیر، ٹریفک کے مسائل اور شہری سہولیات میں بہتری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
’وہ ایک جنگجو وزیراعظم ہے‘، ٹرمپ نے اسرائیلیوں سے نیتن یاہو کو ووٹ دینے اپیل کردی
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پشاور میں تین انڈر پاسز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ پشتخرہ اور جمیل چوک انڈر پاسز کو بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر 50 کروڑ روپے کی لاگت سے الیکٹرک پولز کی تنصیب، لائٹنگ اور کیبلنگ کا کام جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور کی 35 اہم سڑکوں کی بحالی اور اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے، جبکہ پیر زکوڑی فلائی اوور کے لیول ٹو اور ناصر باغ روڈ کی توسیع کے منصوبوں پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔
حکام کے مطابق 323 کنال اراضی پر مشتمل نیو پشاور بس ٹرمینل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جلد فعال کیا جائے گا۔ اجلاس میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد خالی ہونے والی اراضی سے دو روز کے اندر ملبہ اٹھانے اور ان مقامات پر عوامی سہولیات کے لیے جگہیں قائم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے یونیورسٹی روڈ کی دوبارہ کارپٹنگ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے، بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے اور کوہاٹ روڈ پر انڈر پاس کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے چنگ چی رکشوں اور دیگر رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے فوری قانون سازی، ای چالان سسٹم شروع کرنے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ گورنر نے ٹریفک کے رش والے مقامات پر درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔
فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے پشاور کی کینال روڈز کو خوبصورت بنانے کے لیے جدید لائٹنگ نصب کرنے اور سیاحتی مقامات سمیت شہر بھر میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تزئین و آرائش اور عوامی مقامات کی بحالی پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کی۔



