وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے سپرد کر دی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں گلی محلوں میں قائم واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لیے عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جبکہ ہر تحصیل میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مرمت اور بحالی کے لیے موبائل مینٹیننس یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لیے قائم کی جانے والی موبائل ورکشاپس میں پلمبرز اور دیگر تکنیکی عملہ تعینات ہوگا، جو پلانٹس کی مرمت اور بحالی کے امور انجام دے گا۔
ترکیہ میں عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں پاکستان کی دوسری پوزیشن
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاسٹ مائل واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ منصوبے کے تحت چکوال میں 256 کلومیٹر اور راجن پور میں 1780 کلومیٹر طویل واٹر سپلائی لائن بچھانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
مریم نواز شریف کو پنجاب کے چار اضلاع میں جاری واٹر بوٹلنگ پلانٹ منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ خوشاب، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں روزانہ 10 ہزار، 19 لیٹر پانی کی بوتلیں تیار کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بتایا گیا کہ سی ایم واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ سے مختصر عرصے میں 48 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ اس منصوبے کے تحت 75 ہزار سے زائد 19 لیٹر پانی کی بوتلیں گھروں تک پہنچائی جا چکی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صاف پانی عوام کا حق ہے اور ہر فرد کو پینے کے لیے صاف پانی ضرور فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ گھروں تک صاف پانی پہنچانے کا اعزاز حاصل ہونے پر شکر گزار ہیں۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے بعد دیگر علاقوں میں بھی واٹر سپلائی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کسی کو پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے میلوں دور سے پانی لانے کی مشقت نہیں کرنا پڑے گی۔



