بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے آئین میں کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں ہے، جبکہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔
واٹس ایپ کا ’مینشنز اینڈ ریپلائیز‘ کے نام سے نیا فلٹر متعارف
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سہیل آفریدی کسی شاہی مہمان خانے میں موجود ہیں، تاہم وہ کسی مہمان خانے میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے حوالے سے ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر تاحال باضابطہ طور پر کام شروع نہیں کیا گیا۔



