انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام لندن میں منعقدہ سیمینار کے دوران نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے موجودہ ملکی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی بالادستی کی سوچ کو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی بارش، سردی کی شدت بڑھ گئی
انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث بن رہی ہے، جبکہ بھارت کی جارحانہ عسکری سوچ اور جوہری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے دعوے پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا میزائل پروگرام اور دوہری صلاحیتوں کے حامل ہتھیار خطے میں تصادم کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا کہ مئی 2025 کے بحران کے دوران بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جوہری تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے بعد ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور جارحیت کرنے والے کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کی جوہری صلاحیت اور فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کا اہم ستون ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے مزید کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل سے گریز کرتے ہوئے فوجی طاقت اور جارحیت کے ذریعے تنازع کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھارت کو سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔



