چائے پینے کے طریقے کا دل کی صحت پر اہم اثر سامنے آگیا

چائے پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے مشروبات میں سے ایک ہے اور بیشتر افراد اپنی روزمرہ زندگی میں اس کے بغیر تصور بھی نہیں کرسکتے۔
تاہم، کیا چائے پینا دل کی صحت کے لیے مفید ہے؟ اس سوال کا جواب ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
پانی ہماری ریڈلائن ہے، پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم
جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، چائے تیار کرنے اور پینے کا طریقہ دل کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق میں 30 سے 79 سال کی عمر کے 4 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد نے چائے پینے سے متعلق اپنی عادات کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں روزانہ پینے والے چائے کے کپوں کی تعداد، پسندیدہ قسم کی چائے اور چائے کو کس قدر گرم پینا پسند کرتے ہیں، جیسے عوامل شامل تھے۔
محققین نے ان افراد کی صحت کا 9 سال تک جائزہ لیا، جس کے دوران دل کے مختلف امراض، بشمول ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی شریانوں کے امراض کے 14 ہزار 800 سے زائد کیسز سامنے آئے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد ہفتے میں کم از کم 3 دن چائے پیتے ہیں، ان میں امراضِ قلب، بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ 11 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق، عمر، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمیوں، جسمانی وزن اور دیگر طبی مسائل جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود چائے پینے سے امراضِ قلب کے خطرے میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم تمباکو نوشی سے گریز کرنے والے افراد کو اس عادت سے زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، اعتدال میں رہ کر چائے پینا دل کی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے، جبکہ سیاہ چائے اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند پائی گئی۔
اس کے برعکس، جو افراد بہت زیادہ گرم چائے پینا پسند کرتے ہیں، ان میں امراضِ قلب کا خطرہ کم ہونے کے بجائے 16 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نیم گرم چائے پینے والے افراد میں اس خطرے میں کمی دیکھی گئی۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کی کچھ حدود ہیں، کیونکہ اس میں شرکاء کی جانب سے خود فراہم کردہ معلومات پر انحصار کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ چائے پینے کی عادات اور دل کی صحت کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے اور نتائج کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ چائے میں قدرتی طور پر پولی فینولز نامی مرکبات موجود ہوتے ہیں، جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے ساتھ ورم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔
یہ مرکبات ممکنہ طور پر خون کی شریانوں میں موجود خلیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر کم ہونے اور دل پر دباؤ میں کمی آنے میں مدد مل سکتی ہے۔



