اخروٹ بیشتر افراد کو پسند ہوتے ہیں اور انہیں مختلف پکوانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اخروٹ سال بھر کھائے جا سکتے ہیں اور صحت کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں۔

اب ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانے سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ سیروٹونن میٹابولزم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ سیروٹونن دماغ اور آنتوں میں پایا جانے والا ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے جسے خوشی کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے، جبکہ یہ نیند اور ذہنی سکون کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
جرنل فوڈ اینڈ فنکشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں روزانہ اخروٹ کھانے سے مزاج پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے 31 افراد کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا اور انہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ایک گروپ کو رات کے کھانے کے ساتھ 40 گرام اخروٹ کھانے کی ہدایت کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو 8 ہفتوں تک اخروٹ سے دور رکھا گیا۔ اس کے بعد دونوں گروپس کو 2 ہفتوں تک اخروٹ سے دور رکھا گیا اور پھر دونوں گروپس کو تبدیل کردیا گیا۔
مجموعی طور پر 18 ہفتوں تک یہ سلسلہ جاری رہا، جبکہ اس دوران دونوں گروپس کو پھلوں، سبزیوں، سالم اجناس، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ دونوں گروپس میں تناؤ اور مزاج کا تجزیہ سوالناموں کے ذریعے کیا گیا جبکہ پیشاب کے نمونوں کا بھی تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ اخروٹ کھانے والے افراد کے مزاج پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، تاہم غصے اور تھکاوٹ میں کوئی زیادہ نمایاں کمی نہیں آئی۔
محققین نے بتایا کہ اخروٹ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، پولی فینولز اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، جو معدے میں موجود بیکٹیریا کے ذریعے مزاج کو خوشگوار بنانے والے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتے ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم یہ تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی ہے، اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق 8 ہفتوں تک روزانہ 40 گرام اخروٹ کھانے سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ سیروٹونن میٹابولزم میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔



