اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ محسن نقوی نے ٹی ٹی پی کے حملوں اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
رضوان این سی سی آئی اے میں پیش، 4 رکنی ٹیم کرکٹر سے سوالات کریگی
ذرائع کے مطابق علامہ راجا ناصر عباس نے خیبرپختونخوا حکومت اور سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، لیکن آپ مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ آپ کے ادارے ارکان اسمبلی کو گرفتار کررہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، لیکن عمران خان سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی رہنماؤں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟
ذرائع کے مطابق علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مسائل کا حل اسی وقت نکل سکتا ہے جب محمود خان اچکزئی اور ان کی عمران خان سے ملاقات ہوگی۔ اس پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سوال کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ملاقات کے بعد مسائل حل ہوجائیں گے؟
علامہ راجا ناصر عباس نے جواب دیا کہ ہم اس کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔ جب تک ملاقات نہیں ہوتی، کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی، جبکہ بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے بتائے گئے نکات حکومتی ٹیم کے سامنے رکھے۔



