Gas Leakage Web ad 1

لاہور کی ایک خاتون 1947 سے قبل اپنے والد کی تعیناتی والے تھانے کو دیکھنے کینیڈا سے پاکستان پہنچ گئیں

0

لاہور کی وہی گلیاں وہی تھانے کی اینٹیں جو ستر برس کی دھوپ اور بارشیں سہہ چکی ہیں۔۔ آج ایک ایسا منظر دیکھ رہی تھیں جو تاریخ کے کسی صفحے میں شاید ہی درج ہو۔ عمر کے آخری پڑاو پر ایک خاتون جن کے بال وقت نے سفید کر دیے مگر یادداشت نے وہ رنگ نہیں بھولا جو بچپن کی گلیوں کا تھا۔ کینیڈا کی ٹھنڈی فضاوں سے چل کر گرم مٹی کی اس عمارت تک پہنچیں جہاں کبھی ان کے والد کی آواز میں حکم گونجا کرتا تھا۔۔
انسان نئے دیس بساتا ہے نئی زبانیں سیکھتا ہے مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک نقشہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے وہ نقشہ جہاں سے سفر کی پہلی سانس لی تھی۔۔
جب زیر نظر تصویر میں خاتون نے لاہور کے اس تھانے میں ایس ایچ او کو اپنا تعارف کروایا کہ میں کینڈا سے آئی ہوں 1947 کے بٹوارے سے پہلے اسی تھانے پہ میرے والد ایس ایچ او تھے تو ایس ایچ او نے بنا کچھ کہے اپنی نشست چھوڑ دی گویا وقت نے خود جھک کر ماضی کو سلام کیا ہو۔۔ خاتون کی آنکھوں سے بہتے آنسو دراصل الفاظ کا متبادل تھے وہ کیفیت جسے زبان بیان نہیں کر سکتی صرف آنکھیں ہی ترجمہ کر پاتی ہیں۔۔ سرحدیں انسانوں کو تقسیم کرتی ہیں سیاست دیواریں کھڑی کرتی ہے مگر جڑیں کبھی تقسیم نہیں ہوتیں۔
وہ خاموشی سے زمین کے نیچے پھیلتی رہتی ہیں اور برسوں بعد کسی کونے سے پھوٹ نکل کر یاد دلاتی ہیں کہ انسان آخرکار اپنی اصل کی طرف لوٹنے کی جبلت رکھتا ہے!!

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.