وزیراعظم سے کاروباری شخصیات کی ملاقات، توانائی لاگت میں کمی اہم ترجیح ہے: شہبازشریف
وزیراعظم شہباز شریف سے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان
ملاقات میں میاں منشا، عارف حبیب، ثاقب شیرازی، عاطف باجوہ، محمد علی اور مصدق ذوالقرنین سمیت ممتاز کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔
وفد میں عمر سعید، صمد داؤد، اشرف موکاتی، شاہد صورتی، شہزاد اصغر، شہزاد سلیم، آصف پیر اور دیگر بھی شامل تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔
شہباز شریف نے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کا دائرہ کار مزید مؤثر بنانے کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے آسان اور سہل پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے، جبکہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے بھی ایک بڑا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 800 ارب روپے اکٹھے کیے، جبکہ معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت میکرو اکنامک حالات میں خاطرخواہ بہتری آئی ہے۔ مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری لانے کے لیے ہمیں مزید محنت کرنی ہے، جبکہ صنعتی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
وزیراعظم نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے اقدامات اور برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔
وفد کو ملکی معیشت بہتر بنانے، کاروبار، تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی، جس کے دوران بتایا گیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی اور آپریشنل استعداد بہتر بنائی گئی ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایم-10 کی اپ گریڈیشن جاری ہے، جبکہ ایم-13 کھاریاں-راولپنڈی کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہوجائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہوگا اور تجارتی سامان کی ترسیل مزید تیز ہوسکے گی۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
اجلاس میں کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں نے ملک میں میکرو اکنامک استحکام کو سراہا اور حکومتی معاشی اصلاحات و پالیسی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔
کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں تعمیری کردار کو سراہا، جبکہ شرکاء نے حکومتی نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسی کی بھی تعریف کی۔ وفد نے کاروبار اور صنعت کے شعبوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔