وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے لیے عدالتی حکم کی پابند ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا علاج سرکاری اسپتال میں نہ ہو تو انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال بھیجا جائے گا، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے بیرون ملک جانے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔
گوگل نے پاکستان میں آن لائن سیفٹی کیلئے ڈیجیٹل پاسبان پروگرام کا افتتاح کر دیا
طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ایوان میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کریں گے۔ سپریم کورٹ سے رجوع صرف اس لیے کیا تھا کہ وضاحت مل جائے کہ یہ فیصلہ صرف ایک قیدی کے لیے ہے یا ملک کے تمام دیگر قیدیوں کے لیے بھی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت کے پاس بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے چند گھنٹے باقی ہیں، حکم نہ ماننے پر پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے آج کے دن کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست واپس لے چکی ہے، اب اس کے پاس بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
اس سے پہلے رجسٹرار سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی تھی۔ ذرائع کے مطابق اعتراضات دور کرکے نئی درخواست آج ہی دائر کیے جانے کا امکان ہے۔