صحت ایسی دولت ہے جس کے بغیر طویل زندگی بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اچھی صحت کے معاملے میں اکثر لوگ الجھن کا شکار رہتے ہیں اور بعض اوقات ماہرین کی آرا بھی ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتی ہیں، تاہم اس کے باوجود کچھ ایسے اصول موجود ہیں جن کی افادیت کی سائنسی تحقیق سے بھی تائید ہوتی ہے۔
اگر آپ مختلف بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو چند آسان عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
جسم کو آرام اور دوبارہ توانائی حاصل کرنے کے لیے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ نیند کے دوران دماغ نئی معلومات سیکھنے اور یادداشت کو مستحکم کرنے جیسے اہم کام بھی انجام دیتا ہے۔ نیند کی کمی جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے، اس لیے مناسب نیند کو معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
محسن نقوی کا این سی سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کی زیر تعمیر عمارت کا اچانک دورہ
چہل قدمی کو روزانہ کی عادت بنانا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ پیدل چلنے سے جسم اور دماغ دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق چہل قدمی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، جوڑوں کے امراض کے خطرے کو کم کرنے اور صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مطالعے کی عادت بھی ذہنی صحت کے لیے مفید قرار دی جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 30 منٹ تک مطالعہ کرنے سے تناؤ کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس کا اثر یوگا یا مزاح جیسی سرگرمیوں کے برابر بھی ہوسکتا ہے۔ مطالعے سے دماغی صحت کو مختصر اور طویل مدت میں فائدہ پہنچ سکتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی دماغی تنزلی سے نمٹنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
گھر سے باہر سرسبز مقامات پر وقت گزارنا بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ قدرتی ماحول میں وقت گزارنے سے دماغی افعال بہتر ہونے، توجہ مرکوز کرنے، دماغی امراض کے خطرے میں کمی اور سماجی میل جول میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے۔
پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال بھی صحت مند زندگی کے لیے اہم ہے۔ ان غذاؤں میں وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کا مناسب استعمال بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے جبکہ مختلف دائمی امراض کا خطرہ بھی کم ہوسکتا ہے۔
مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے جسم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ پانی جسم سے فاضل اور زہریلے مواد کے اخراج میں مدد دیتا ہے، جوڑوں کی نمی برقرار رکھتا ہے اور بے وقت بھوک پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے، جس سے جسمانی وزن کو قابو میں رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔
تمباکو نوشی سے گریز بھی صحت مند زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ سگریٹ نوشی دل اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر متعدد اعضا کو بھی متاثر کرتی ہے۔ طویل اور صحت مند زندگی کے لیے اس عادت کو ترک کرنا فائدہ مند ہے۔
اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا بھی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے سے خوشی کا احساس بڑھتا ہے اور دماغی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
موجودہ دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے مکمل طور پر دور رہنا مشکل ہے، تاہم ان کا استعمال محدود کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اسمارٹ فونز سے دوری نیند کے معیار کو بہتر بنانے، ڈپریشن اور انزائٹی کی علامات کی شدت کم کرنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسکرین کے سامنے کم وقت گزارنے سے تناؤ کو بھی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر فون سے دور رہنا مشکل ہو تو سوشل میڈیا ایپس کے استعمال میں کمی سے اس عادت کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
کسی نئے مشغلے کو اپنانا بھی ذہنی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ نیا شوق اختیار کرنے سے تناؤ کم کرنے اور دماغی صحت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر مشغلہ کسی جسمانی سرگرمی سے متعلق ہو تو اس کے ذریعے جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع شدہ تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔