امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور ویک اینڈ پر ہونے والی مجوزہ کارروائی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقدام دنیا کے مستقبل اور ایران کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اور اتحادی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ سعودی ولی عہد نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور فوجی کارروائی سے گریز پر زور دیا۔
قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے بھی امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بات چیت میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔