چیف جسٹس کے سیکریٹری مشتاق احمد نے کہا ہے کہ مقدمات مقرر کرنے کا اختیار مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو منتقل کرنے پر کام جاری ہے، جس کے بعد پالیسی کے مطابق مقدمات مقرر کرنے کا عمل اے آئی کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں کپتان بابر اعظم 58 رنز بناکربھی تنقید کی زد میں
رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل لغاری کے ہمراہ نیو بریفنگ کے دوران مشتاق احمد نے بتایا کہ اے آئی کے ذریعے مقدمات مقرر کرنے سے انسانی عمل دخل ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ مجموعی طور پر 35 سروسز فراہم کر رہی ہے، جن میں سے بیشتر آن لائن دستیاب ہیں، جبکہ مزید 12 سروسز کو آن لائن کرنے پر کام جاری ہے۔
چیف جسٹس کے سیکریٹری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے شکایات سیل کو اب تک 50 ہزار 830 شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں صرف 2 شکایات براہ راست سپریم کورٹ کے افسران سے متعلق تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اب صرف متعلقہ شکایات پر کارروائی کرتی ہے، جبکہ کرپشن کی شکایت پر سپریم کورٹ کے ایک افسر کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔
مشتاق احمد نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے شکایات سیل سے متعلق فیڈ بیک مثبت رہا ہے۔ سپریم کورٹ اوورسیز سیل کو 1063 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 22 شکایات سپریم کورٹ سے متعلق تھیں جبکہ 14 کو نمٹا دیا گیا۔
رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل لغاری نے کہا کہ نیب سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد مقدمات کی کیٹیگریز بنائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت نیب سے متعلق تقریباً 300 مقدمات زیر التوا ہیں۔