برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹروبا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 211 رنز کا ہدف دیا تو دوسری اننگز کے آغاز ہی میں صورتحال پاکستان کے لیے مشکل ہوگئی۔ پہلی اننگز کے سنچری میکر شان مسعود کی انگلی میں انجری کے باعث تیسرے اوور میں کپتان بابر اعظم کو بیٹنگ کے لیے میدان میں آنا پڑا۔
امام الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد اذان اویس اور سلمان علی آغا بھی 25 رنز کے مجموعی اسکور تک پویلین واپس لوٹ گئے۔ اس موقع پر بابر اعظم اور سابق کپتان وکٹ کیپر محمد رضوان کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 19 رنز کی شراکت قائم ہوئی، جس میں بابر اعظم نے 21 گیندوں پر 9 جبکہ محمد رضوان نے 28 گیندوں پر 11 رنز بنائے۔
پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز
46 رنز پر پاکستان کی چار وکٹیں گرنے کے بعد کپتان بابر اعظم سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ سینئر بلے باز کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالیں گے اور زیادہ سے زیادہ اسٹرائیک اپنے پاس رکھیں گے، تاہم ان کی بیٹنگ حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے۔ ایک اینڈ سے وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں جبکہ بابر اعظم زیادہ تر سنگلز لے کر نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود رہے۔
عامر جمال، علی عثمان اور بابر اعظم کے درمیان بننے والی شراکت میں بھی بابر اعظم زیادہ تر نان اسٹرائیکر اینڈ پر دکھائی دیے۔ اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے 11 گیندیں کھیلیں جبکہ عامر جمال اور علی عثمان نے مجموعی طور پر 23 گیندوں کا سامنا کیا۔
پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے شان مسعود زخمی انگلی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے، لیکن اس مرحلے پر بھی بابر اعظم نے خود آگے آ کر کریز سنبھالنے کے بجائے محتاط انداز اپنایا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان 30 گیندوں کی شراکت میں بابر اعظم اور شان مسعود نے برابر 15،15 گیندیں کھیلیں۔
اس کے بعد نویں نمبر پر آنے والے خرم شہزاد اور دسویں نمبر کے محمد علی کے ساتھ بھی بابر اعظم نے زیادہ تر اسٹرائیک دوسرے اینڈ کو دی۔ خرم شہزاد اور محمد علی نے ویسٹ انڈین بولرز کے خلاف 12 گیندیں کھیلیں جبکہ بابر اعظم نے اس دوران صرف 2 گیندوں کا سامنا کیا۔
بابر اعظم نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور 107 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، تاہم ان کے بیٹنگ انداز پر تنقید کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق مشکل صورتحال میں کپتان سے زیادہ جارحانہ اور ذمہ دارانہ کردار کی توقع کی جا رہی تھی۔
پاکستان کی نو وکٹیں 71 رنز پر گر چکی تھیں اور شکست واضح دکھائی دے رہی تھی۔ آخری وکٹ پر بابر اعظم اور محمد عباس کے درمیان 12 اوورز میں 49 رنز کی شراکت قائم ہوئی، جس میں محمد عباس نے 33 گیندوں پر 23 جبکہ بابر اعظم نے 41 گیندوں پر 21 رنز بنائے۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دی تھی۔ میچ میں بابر اعظم کی دوسری اننگز کی بیٹنگ حکمت عملی پر سابق کھلاڑیوں اور شائقین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔