وفاقی سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں میں 14 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں متعدد اداروں میں مالی بے قاعدگیوں اور کمزور کنٹرول سسٹم کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مسلح افراد کے ذریعے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی شکایات انتہائی سنگین ہیں، راجہ پرویز
تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران وفاقی سماجی بہبود اور سوشل سیفٹی نیٹ پروگراموں کے آڈٹ میں مجموعی طور پر 14 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے 2025-26 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) اور وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سمیت اہم سرکاری اداروں میں مالی بے قاعدگیوں اور نگرانی کے کمزور نظام کی نشاندہی کی گئی ہے۔